رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 23° / 10°فجر 05:29ظہر 12:16عصر 16:03مغرب 17:40عشا 19:02
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
اسپاٹیفائی نے کراچی کے ہپ ہاپ فنکار شارح کو ریڈار پاکستان کے لیے منتخب کرلیااسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں میں 47.3 فیصد اضافہ، بلوچستان سے اکتوبر میں 370 نئے اکاؤنٹس15 نومبر کو کوئٹہ میں بدامنی اور مہنگائی کے خلاف جلسہ عام ہوگاپاکستان اسکواش ٹیم ایشین چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئینوجوان طالبات جدید تعلیم اور ڈیجیٹل مہارتوں پر توجہ دیں: ہدایت الرحمن بلوچشہریار ملک میموریل ٹینس: غضنفر اور عمران طاہر سینئرز ڈبلز کے فاتحرکھنی ڈویلپمنٹ پیکج اور 50 بستروں کے ہسپتال پر اجلاس، کمشنر کی ہدایاتقدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے سپارکو کا پانچ روزہ تربیتی کورس مکملترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت جاری، تعلیم اور نوجوانوں کے لیے بڑے اقداماتایل پی جی مہنگی، گیس لوڈشیڈنگ؛ سجاد نذیر کا حکومت پر تنقیدسمندر میں تیل و گیس کی تلاش؛ 20 سال بعد بحالی کا آغازحافظ عبدالکریم کی آل پاکستان اہلحدیث کانفرنس کی تیاریوں کا جائزہ

دکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا

دکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے ایک بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر ضلع دکی میں انسدادِ پولیو مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر تھل عبدالسلام شاہوانی، محکمہ صحت کے افسران، پولیو ٹیموں کے ذمہ داران اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے، تاہم بروقت اور مؤثر حفاظتی اقدامات کے ذریعے اس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ہر پولیو مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ بچوں کو مستقل معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ضلع دکی میں انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام تر ضروری انتظامات مکمل کیے گئے ہیں، جبکہ محکمہ صحت، پولیو ورکرز، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے باہمی رابطے اور مربوط حکمتِ عملی کے تحت خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ہدایات اور انتظامات

ڈپٹی کمشنر نے پولیو ٹیموں کو ہدایت کی کہ وہ گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں اور والدین میں آگاہی بھی پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دور دراز اور حساس علاقوں تک پولیو ٹیموں کی رسائی یقینی بنائی جائے اور کسی بچے کے قطرے پینے سے رہ جانے کی صورت میں فوری طور پر فالو اَپ کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کا خاتمہ صرف حکومت یا محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ والدین، علماء کرام، اساتذہ، قبائلی عمائدین، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور معاشرے کے دیگر طبقات کو چاہیے کہ وہ پولیو کے خلاف قومی مہم میں بھرپور تعاون کریں۔

اس موقع پر محکمہ صحت کے حکام نے ڈپٹی کمشنر کو انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات، ٹیموں کی تشکیل، فیلڈ سرگرمیوں اور بچوں کی کوریج کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ڈپٹی کمشنر نے مہم کی مؤثر نگرانی، ٹیموں کی حاضری اور مقررہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مہم کے دوران کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

ضلعی انتظامیہ نے والدین سے اپیل کی کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں اور صحت مند و محفوظ مستقبل کے لیے قومی انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اشتہار