ایرانی حملوں سے تباہ امریکی فوجی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری

واشنگٹن: امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے مشرق وسطیٰ میں ایرانی حملوں سے تباہ ہونے والی امریکی تنصیبات کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی ہیں۔ ادارے کے تجزیے کے مطابق ایران نے پہلے امریکی فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا، پھر طیاروں اور عمارتوں کو تباہ کیا۔
اے پی نے مختلف سیٹلائٹ کمپنیوں کی تصاویر کی مدد سے امریکی اہداف کو پہنچنے والے نقصان کی آزادانہ تصدیق کی۔ خطے کے چار ایسے حکام سے بھی بات کی گئی جنہیں حملوں میں نشانہ بننے والے مقامات کے بارے میں معلومات دی گئی تھیں یا جو ان نقصانات سے براہ راست واقف تھے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ شروع ہونے سے اگست تک ایران کی جانب سے کیے گئے 115 سے زائد ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں 26 فوجی اڈوں اور دیگر مقامات پر موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔ ان حملوں سے امریکی فوجی سازوسامان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔
ان حملوں سے مشرق وسطیٰ میں امریکا کی فوجی موجودگی کی صورتحال نمایاں طور پر تبدیل ہو گئی ہے۔ خطے کے دو حکام کے مطابق امریکا نے اپنے بہت سے فوجی اثاثے خلیج کے علاقے سے دوسری جگہ منتقل کر دیے ہیں۔ ان میں طیارے، فضائی دفاعی نظام، مواصلاتی نظام اور فوجی اڈوں کو فعال رکھنے کے لیے ضروری دیگر سازوسامان شامل ہیں۔
امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اگر دوبارہ جنگ شروع ہوتی ہے تو امریکی فوجی اڈوں کو مزید بھاری مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس سے یہ غیر یقینی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد امریکا خطے میں اپنے فوجی اڈوں اور سازوسامان کی دوبارہ تعمیر اور بحالی کا فیصلہ کرے گا یا نہیں۔
کویت اور دیگر اڈوں پر حملے
سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ ایران نے زیادہ حملے کویت میں کیے۔ تاہم بحرین، عراق، اردن، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جنگ کے دوران امریکی فوجیوں پر ہونے والا سب سے ہلاکت خیز معلوم حملہ کویت میں ہوا، جہاں یکم مارچ کو پورٹ شعیبہ میں ڈرون حملے کے نتیجے میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
کویت کے علی السالم ایئر بیس پر کم از کم 30 مرتبہ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں کم از کم 15 طیاروں کے ہینگرز، متعدد گوداموں اور رہائشی علاقے کے قریب واقع 10 عمارتوں کو نقصان پہنچا یا وہ تباہ ہو گئیں۔ کیمپ بوہرنگ کو اس سے بھی زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، اور ایرانی حملوں کے باعث اس کے بیشتر طیاروں کے ہینگرز ناقابل استعمال ہو گئے۔
جنگ شروع ہونے کے پہلے دو دنوں میں ایران نے کویت کے کیمپ عارفجان اور بحرین میں نیول سپورٹ ایکٹیویٹی کے مقامات پر امریکی ریڈار نظاموں کو تحفظ فراہم کرنے والی تنصیبات تباہ کر دیں۔ ایران نے سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس اور اردن کے موفق السلطی ایئر بیس پر نصب موبائل ریڈار نظاموں کو بھی نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ اردن اور قطر میں بھی ریڈار کو نشانہ بنایا گیا۔
ریڈار نظاموں کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے جنگ کے پہلے مہینے میں امریکی فوجی سازوسامان رکھنے والے 18 مقامات پر 50 سے زیادہ کامیاب حملے کیے۔ ان حملوں میں ایسے مقامات کو ترجیح دی گئی جہاں طیارے موجود تھے۔ کانگریشنل ریسرچ سروس کی اکتوبر میں اپ ڈیٹ کی گئی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے امریکی فوجی اڈوں پر مجموعی طور پر 15 امریکی طیاروں کو نقصان پہنچا تھا۔
متحدہ عرب امارات میں ابوظہبی سے تقریباً 20 میل جنوب میں واقع الظفرہ ایئر بیس کو بھی جنگ کے ابتدائی دنوں میں بار بار نشانہ بنایا گیا۔
ماہر دفاعی امور رافیل کوہن کے مطابق آج کے دور میں جنگ لڑنے کے طریقوں نے دنیا کی تمام افواج کو بڑے پیمانے پر کیے جانے والے کم لاگت ڈرون حملوں کے سامنے غیر محفوظ بنا دیا ہے، اور یہ امریکا کے لیے وارننگ ہونی چاہیے۔
اے پی کے مطابق امریکی حکام کی درخواست پر امریکا کے ساتھ معاہدے رکھنے والی بڑی سیٹلائٹ کمپنیوں نے ان تصاویر کی عوامی اشاعت روک دی یا اس میں تاخیر کی۔ امریکی حکام نے بعض مواقع پر ان تصاویر کی اشاعت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔











