پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی کا اعلامیہ: پارٹی میں گروپ بندی نہیں، گرفتاریوں اور چھاپوں پر تحفظات

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پارٹی میں کسی قسم کی گروپ بندی یا تقسیم نہیں۔ اعلامیے کے مطابق پوری جماعت بانی پی ٹی آئی کی قیادت، نظریے اور مشن کے ساتھ متحد ہے۔
اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال، مہنگائی اور امن و امان پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، اسپیکر اور دیگر پارلیمنٹیرینز کی حراست غیرقانونی ہے، انہیں فوری رہا کیا جائے۔ منتخب نمائندوں کو حراست میں رکھنا جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی صحت
کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو اسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی۔ دونوں کے اہلخانہ کو اعتماد میں لیے بغیر اسپتال منتقلی تشویشناک ہے۔ اعلامیے میں بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عملدرآمد اور ان کی صحت سے متعلق اہلخانہ کو باقاعدگی سے آگاہ رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔
مطالبہ کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے اہلخانہ کو ملاقات اور عیادت کی سہولت فراہم کی جائے، اور بشریٰ بی بی کے لیے مناسب طبی سہولیات اور اہلخانہ سے ملاقات یقینی بنائی جائے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی اور ملاقات کی اجازت کا مطالبہ کیا گیا۔
گرفتاریوں اور چھاپوں پر تحفظات
کمیٹی نے ایم این اے عادل بازی سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی گرفتاریوں پر تحفظات ظاہر کیے اور ایم پی او کے تحت گرفتار تمام رہنماؤں اور کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ عمر ایوب، شیر علی ارباب اور شاہ احد کے گھروں پر چھاپوں اور توڑ پھوڑ کی مذمت کی گئی۔ سیاسی مخالفین کے گھروں اور خاندانوں کو نشانہ بنانا قابلِ مذمت عمل قرار دیا گیا۔
کمیٹی نے کہا کہ سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی کو انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ اعلامیے کے مطابق ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور کہا گیا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔











