ریٹیلرز ٹیکس اسکیم ناکام، نان فائلرز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت کو ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نئی آسان رجسٹریشن اسکیم کے تحت اب تک صرف 1750 دکانداروں نے فائدہ اٹھایا، جبکہ ریٹیلرز کی اسکیم سے صرف 220 نئے دکاندار ٹیکس نیٹ میں شامل ہوئے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے ریٹیلرز کی ٹیکس اسکیم سے 50 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ ایف بی آر ملک میں ریٹیل شعبے کے 36 لاکھ ممکنہ نان فائلرز کی نشاندہی کر چکا ہے۔
نان فائلرز کے خلاف کارروائی
ایف بی آر ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے مارکیٹوں کی جیوٹیگنگ کا منصوبہ رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں پر جرمانے عائد کیے جا سکتے ہیں۔ نان فائلرز کو پہلے ماہ 10 ہزار، دوسرے ماہ 25 ہزار روپے جرمانہ ہوگا، جبکہ تیسرے ماہ 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ ٹیکس نیٹ میں شامل نہ ہونے والے دکانداروں کی دکانیں سیل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔
واضح رہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں دو مرتبہ توسیع کی گئی تھی، اور اکتوبر تک ایف بی آر کو 76 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں۔
اکتوبر میں ٹیکس وصولیاں
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کو اکتوبر میں ٹیکس وصولیوں کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 157 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ ایف بی آر نے اکتوبر کے پہلے 30 روز میں 975 ارب روپے کے ٹیکس محصولات جمع کیے، جبکہ ماہانہ وصولیوں کا ہدف ایک ہزار 132 ارب روپے مقرر تھا۔
مالی سال کے پہلے چار ماہ، جولائی سے اکتوبر کے دوران مجموعی طور پر 4 ہزار 58 ارب 50 کروڑ روپے ٹیکس جمع کیا گیا، جبکہ اس مدت کے لیے 4 ہزار 185 ارب روپے کا ہدف مقرر تھا۔ اس طرح چار ماہ کی ٹیکس وصولیاں بھی مقررہ ہدف سے 126 ارب 50 کروڑ روپے کم رہیں۔











