رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
حارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوششمالی کوریا کا بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ہونے کے ایف بی آئی الزام کو مستردنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےیورپ کے سپر مارکیٹس میں فریزرز ہیک، سویڈن سے بیلجیم تک خوراک ضائع کرنا پڑیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیبیرسٹر گوہر: سیاسی تنائو مزید نہ بڑھایا جائے، مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائےکوئٹہ کی عابدہ بتول عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بن گئیںایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جاری، نئے علاقائی سکیورٹی انتظامات پر کوششبلاول بھٹو کی زیرِ صدارت پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعظم سے ملاقات پر غورسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےٹرمپ کا انتباہ: ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت لیں تو ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا

یو این ایچ سی آر اسکولوں کے 291 برطرف اساتذہ کا پشاور میں دھرنا، معاوضے کا مطالبہ

یو این ایچ سی آر اسکولوں کے 291 برطرف اساتذہ کا پشاور میں دھرنا، معاوضے کا مطالبہ
فائل فوٹو: پشاور میں یو این ایچ سی آر دفتر کے باہر برطرف اساتذہ کا دھرنا — تصویر: بشکریہ chitraltoday.net

پشاور: افغان مہاجر بچوں کو پڑھانے والے یو این ایچ سی آر کے تعاون سے چلنے والے اسکولوں کے 291 اساتذہ نے برطرفی کے خلاف منگل کو اسپین جماعت میں ادارے کے دفتر کے باہر دھرنا دیا۔ برطرف اساتذہ میں 191 خواتین شامل ہیں۔ مظاہرین نے معاوضے اور برسوں کی خدمات کے اعتراف کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کی قیادت طفیل احمد اور خواتین اساتذہ کی نمائندگی کرنے والی فرحانہ درانی نے کی۔ طفیل احمد کے مطابق اساتذہ نے تقریباً چار دہائیاں مہاجر بچوں کی تعلیم کے لیے وقف کیں، مگر انہیں 31 اکتوبر کو بغیر پیشگی اطلاع اور مالی معاونت کے فارغ کر دیا گیا۔

فرحانہ درانی نے کہا کہ وہ 35 سال افغان بچوں کو پڑھاتی رہیں اور ان کی ملازمت ٹیلی فون کال کے ذریعے ختم کر دی گئی، جس پر انہیں گہرا دکھ ہے۔

اساتذہ کا کہنا تھا کہ وہ دہائیوں تک مہاجر کیمپ اسکولوں میں پڑھاتے رہے، لیکن انہیں طبی الاؤنس، مالی مراعات اور گریجویٹی سمیت کئی سہولتیں نہیں دی گئیں۔ ان کے مطابق اچانک برطرفی سے 291 خاندان مالی بے یقینی کا شکار ہو گئے ہیں، خاص طور پر خواتین اور عمر رسیدہ اساتذہ۔

مظاہرین نے شکایت کی کہ وہ بارہا دفتر گئے، مگر ان کی بات نہیں سنی گئی اور کوئی ذمہ دار افسر مذاکرات کے لیے سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دفتر ان کے لیے بند کر دیا گیا، باہر پولیس تعینات کی گئی اور لاٹھی چارج کی تنبیہ بھی دی گئی۔

متاثرہ اساتذہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع سے ہے، جن میں پشاور، نوشہرہ، مردان، صوابی، ہری پور، تیمرگرہ، کوہاٹ، چکدرہ، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت، ہنگو، تھل، جلالہ اور شیرگڑھ شامل ہیں۔ بعض عمر رسیدہ خواتین بھی دور دراز علاقوں سے آئیں۔

اساتذہ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے معاملے کا نوٹس لینے اور متاثرہ خاندانوں کی مالی مدد کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک پُرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔

اشتہار