امریکا اور ایران تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں، قطر کا مذاکراتی عمل جاری رہنے کا اعلان

دوحہ: قطر نے منگل کو کہا ہے کہ امریکا اور ایران ثالثی کی کوششوں پر قائم ہیں اور اختلافات کم کرنے کے لیے ثالثوں کی پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بریفنگ میں بتایا کہ دونوں فریقوں کے درمیان تجاویز کا فوری تبادلہ کرایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور فاصلے کم کرنے کا عمل جاری ہے۔ قطری ٹیم، جو تہران گئی تھی، دوحہ واپس آ چکی ہے، تاہم بات چیت جاری ہے۔
ترجمان نے کہا کہ خطے اور خلیج میں کشیدگی سے بچنے پر اتفاق موجود ہے اور اس مقصد کے لیے علاقائی سطح پر بھرپور مشترکہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مستقبل کے مذاکرات کے لیے ماحول بنانے والے سمجھوتے کا امکان اب بھی موجود ہے۔
اس دوران ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے ایکس پر کہا کہ ایران کے مطالبات پر امریکا کا جواب قابلِ قبول نہیں تھا۔ ان کے بقول امریکا کو ایران کی سات شرائط کا مکمل اور واضح جواب دے کر ان پر عمل کرنا ہوگا، تبھی آبنائے ہرمز کھولی جائے گی۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی شرائط میں پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی، بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی اور تیل کے شعبے پر پابندیوں کا خاتمہ شامل ہیں۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد 28 فروری سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کے جوابی حملوں کے بعد اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی۔ پیر کو ایک امریکی اہلکار نے تصدیق کی کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران کے جزیرہ قشم پر محدود حملے کیے، جو بڑی جنگی کارروائیوں کی بحالی نہیں تھے۔ یہ حملہ پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے کے دعوے کے بعد ہوا۔











