یورپ کے سپر مارکیٹس میں فریزرز ہیک، سویڈن سے بیلجیم تک خوراک ضائع کرنا پڑی

اسٹاک ہوم: یورپ کے مختلف ممالک میں پیر کو سپر مارکیٹس کے فریج اور فریزرز پر سائبر حملہ ہوا، جس سے درجنوں اسٹورز میں درجہ حرارت بڑھ گیا اور خوراک پھینکنا پڑی۔ یہ واقعہ ایک ماہ قبل فرانس میں ہونے والے ایسے ہی حملے کے تقریباً تین ہفتے بعد پیش آیا۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق بیلجیم اور لکسمبرگ میں اہولڈ ڈیلہائز اور کولرویٹ، سویڈن میں آئی سی اے اور کوپ جبکہ آئرلینڈ میں سپر ویلیو کے اسٹورز متاثر ہوئے۔ آئیکیا کا کم از کم ایک اسٹور بھی نشانہ بنا۔
اسٹاک ہوم میں آئی سی اے کی ایک فرنچائز کی سیلز مینیجر اینگلا اِنگوال نے رائٹرز کو بتایا کہ حملہ رات دو بجے ہوا مگر کئی گھنٹے بعد معلوم ہوا۔ ان کے مطابق ”سب کچھ تباہ ہو گیا“۔ سویڈن کے ایک اسٹور میں فریزرز کا درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔
آئی سی اے کے ترجمان نے کہا کہ محدود تعداد میں اسٹورز کے ریفریجریشن نظام متاثر ہوئے۔ کولرویٹ گروپ کے مطابق بیلجیم میں اس کے زیرانتظام اسپار کے پانچ اسٹورز کے نظام نشانہ بنے۔ آئرلینڈ میں تھوک فروش مسگریو نے بتایا کہ اس کے 13 سپر ویلیو اسٹورز کے نظام متاثر ہوئے اور کچھ ٹھنڈی اور منجمد اشیا فروخت سے ہٹانا پڑیں۔
متاثرہ کم از کم کچھ ریفریجریٹر یونٹس ڈنمارک کی کمپنی ڈینفوس کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے تھے، جو فرانس کے حملے میں بھی نشانہ بنی تھی۔ کمپنی کے مطابق وہ صارفین کے ساتھ مل کر اصلاحی اقدامات کر رہی ہے۔
فرانس میں پولیس کے مطابق ہیکرز نے سینکڑوں سپر مارکیٹس کے کولنگ یونٹس کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، جس سے آگ لگی اور خوراک ضائع ہوئی۔ کسی نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ رائٹرز یہ بھی تصدیق نہیں کر سکا کہ پیر کے حملوں کا فرانسیسی واقعات سے تعلق ہے یا نہیں۔ ماسکو بارہا تخریب کاری یا ہائبرڈ جنگی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتا رہا ہے۔
بیلجیم کے مرکزِ سائبر سکیورٹی کی ترجمان کیٹرین ایگرز نے کہا کہ حملہ آور کا پتا نہیں اور شاید کبھی نہ چل سکے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت اب کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔
یورپی یونین کے کمشنر برائے زراعت کرسٹوف ہینسن نے ان حملوں کو خوراک کی رسد میں خلل ڈالنے اور صارفین کے اعتماد کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش قرار دیا۔











