رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° جزوی بادل 22° / 9°فجر 05:25ظہر 12:16عصر 16:07مغرب 17:44عشا 19:05
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردوں کی حمایت بند نہ کی تو افغان طالبان کو سنگین قیمت چکانا ہوگی: ڈی جی آئی ایس پی آرپیٹرولیم لیوی میں 10 سے 15 روپے فی لیٹر کمی کا امکان، نیا فارمولا جاریپاکستان کو جی 24 کی چیئرمین شپ ملنے پر وزیراعظم شہباز شریف کا اظہارِ مسرتپرویز خٹک: وزیراعظم کا بی آر ٹی سے متعلق بیان حقائق کے برعکس ہےایران نے برطانوی رائل نیوی اور رائل ایئر فورس کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیاریٹیلرز ٹیکس اسکیم ناکام، نان فائلرز کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہافغان مذاکرات: امریکی وزیر خارجہ کے بیان کا پاکستان کی جانب سے خیرمقدمہانگ کانگ سکسز: افغانستان پہلی بار چیمپئن، فائنل میں آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکستکوئٹہ: انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ اختتام پذیر، نجیب اللہ نے گولڈ میڈل جیت لیابابر اعظم پر تنقید: عماد وسیم نے سابقہ کامیابیوں کو نظرانداز نہ کرنے کا مشورہ دیاہانگ کانگ سکسز: پاکستان نے عمان کو 18 رنز سے ہرا کر پلیٹ فائنل جیت لیاایران کی جوہری تنصیبات پر 10 منٹ میں حملے کی صلاحیت، ٹرمپ کا دعویٰ

خواجہ آصف: سول حکومتیں پہلے گرفتار کرتی ہیں، الزام بعد میں سوچتی ہیں

خواجہ آصف: سول حکومتیں پہلے گرفتار کرتی ہیں، الزام بعد میں سوچتی ہیں
فائل فوٹو: وزیر دفاع خواجہ آصف — تصویر: بشکریہ bbc.com

سیالکوٹ: وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیاسی انتقام کی روش پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتیں کسی کو گرفتار کرنا چاہیں تو پہلے گرفتار کرتی ہیں اور بعد میں سوچتی ہیں کہ کون سا الزام لگایا جائے۔

وہ ہفتے کو سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ جیو نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ سول حکومتوں کا طرزِ عمل یہی رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ خود چار مرتبہ حراست میں لیے جا چکے ہیں اور ان کے بقول سیاسی انتقام کبھی ملک کے مفاد میں نہیں ہوتا۔

ان کے یہ ریمارکس ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور مرکزی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ پی ٹی آئی بارہا وفاقی حکومت پر سیاسی انتقام کا الزام لگاتی رہی ہے اور اس کے لیے بانی عمران خان اور دیگر رہنماؤں کی قید کا حوالہ دیتی ہے۔

اپوزیشن نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر بھی تنقید کی ہے، جس کے باعث پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت غیر فعال ہو گئی۔ جیو نیوز کے مطابق وفاقی حکومت کے اس اقدام کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے کئی ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا۔