ایران جنگ پر وینس کے بیان نے تہران میں بحث چھیڑ دی، کوئی اسے موقع تو کوئی جال کہہ رہا ہے

تہران: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایران جنگ سے متعلق بیان پر ایرانی تجزیہ کاروں اور ذرائع ابلاغ میں اختلافِ رائے سامنے آیا ہے۔ کچھ لوگ اسے ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اختلاف کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ بعض اسے ایران کو نقصان دہ معاہدے میں پھنسانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
وینس نے بدھ کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جن ووٹروں نے 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا مگر منگل کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی طرف چلے گئے، ان کی ترجیحات میں جنگ کا خاتمہ اور اسرائیل سے تعلقات پر نظرِثانی شامل ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے یہ پوسٹ نقل کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی پالیسی اور اسرائیل سے تعلق پر سوال اٹھایا۔
ویانا نیوز نے لکھا کہ بیان سے امریکی عہدیداروں کے نقطہ نظر کا فرق ظاہر ہوتا ہے، تاہم اسے صدر اور نائب صدر کے درمیان ناقابلِ حل اختلاف نہیں سمجھنا چاہیے۔ سابق سفارتکار محسن زاہدی موحد نے بیان کو بہت اہم قرار دیا۔ حکومت کے حامی تجزیہ کار علی نصری کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر وینس کے اختلافات انتخابی شکست سے پہلے کے ہیں۔
سخت گیر صحافی پریسا نصر نے خبردار کیا کہ یہ وینس کا ”دوہرا کھیل“ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق قطر اور پاکستان کی ثالثی کے تناظر میں ایران ایسے معاہدے میں کھنچ سکتا ہے جو اسے نئی جنگ کے سامنے کمزور چھوڑ دے۔
ٹرمپ نے بدھ کو پوچھے جانے پر کہا کہ جنگ کو ری پبلکنز کی شکست کی وجہ قرار دینا ”کافی حد تک درست“ ہے، تاہم انہوں نے ایران پر حملے کا دفاع کیا اور کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار سے روکنے کے لیے یہ ضروری تھا۔
رپورٹس کے مطابق وینس نے اکتوبر کے آخر میں ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط بھیجا، جس میں جوہری پروگرام سمیت جامع مذاکرات فوری شروع کرنے اور امریکی وفد کی قیادت کی خواہش ظاہر کی گئی۔ رضائی نے 31 اکتوبر کو بتایا کہ خط قطر کے ذریعے ملا ہے اور جواب نہیں دیا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 2 نومبر کو کہا کہ تہران واشنگٹن کو خطوط کے لہجے کے بجائے اس کے اقدامات سے پرکھے گا۔











