ایران کشیدگی کے خدشات: برینٹ خام تیل 116 ڈالر سے اوپر، چھ ماہ کی بلند ترین سطح

نیویارک: مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہو گیا۔ جمعے کو برینٹ خام تیل اپریل کے آخر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اے ایف پی کے مطابق دسمبر کی ڈیلیوری کا برینٹ کانٹریکٹ 3 فیصد سے زائد بڑھ کر 116.72 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جبکہ امریکی معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 3.8 فیصد اضافے سے 103.27 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
گارڈین کے مطابق برینٹ دن کے دوران ایک موقع پر 117 ڈالر سے بھی اوپر چلا گیا، پھر کچھ نیچے آیا۔ فروری میں ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کی قیمت تقریباً 72 ڈالر تھی، جبکہ اپریل کے اختتام تک یہ 126 ڈالر کو چھو گیا تھا۔
اضافے کی بڑی وجہ ایران کی دھمکی بتائی گئی ہے۔ گارڈین کے مطابق تہران نے کہا ہے کہ نیا امریکی-اسرائیلی حملہ ہوا تو وہ خلیج میں تیل کی تنصیبات، سمندر کے اندر بچھی کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی سہولیات کو نشانہ بنائے گا۔ بروکر ادارے انٹرایکٹو انویسٹر کے رچرڈ ہنٹر کے مطابق ایسی وسیع اطلاعات ہیں کہ امریکا سفارتی راستے کے بجائے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ فوجی حملوں پر غور کر رہا ہے۔ ویلتھ کلب کی سوزانا اسٹریٹر نے کہا کہ 3 نومبر کے امریکی انتخابات کے بعد ایران کے توانائی ڈھانچے پر حملوں کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔
اس ہفتے ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بدھ کو آبنائے ہرمز میں چار تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بعض سفارتکاروں اور سرکاری ملازمین کے اہلِ خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا، جسے یمن کے حوثی باغیوں کے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ اسٹریٹر کے مطابق یوکرین کی جانب سے روسی ڈیزل ریفائنریوں پر بمباری بھی رسد کے خدشات بڑھا رہی ہے۔
اے جے بیل کی ڈینی ہیوسن کے مطابق یوکرین میں کشیدگی اور شمالی نصف کرہ میں سردیوں کے باعث توانائی کی بڑھتی طلب بھی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ مہنگے تیل سے افراطِ زر اور شرحِ سود بڑھنے کے خدشات برقرار ہیں۔ وال اسٹریٹ پر ڈاؤ 1.2 فیصد اور نیس ڈیک 0.2 فیصد گر کر بند ہوا۔ یورپ میں کیرنگ تقریباً 16 فیصد گری، جبکہ وولوو کارز تیسری سہ ماہی میں نقصان اور 2,000 ملازمتیں ختم کرنے کے اعلان کے بعد 24 فیصد سے زائد نیچے آئی۔ آئندہ ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی مرکزی بینک کے سود سے متعلق اجلاسوں پر نظر رہے گی۔











