ٹرمپ انتظامیہ کی سپریم کورٹ سے درخواست: کیلیفورنیا میں 20 ہزار سے زائد ڈاک بیلٹ کی گنتی روکی جائے

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کو امریکی سپریم کورٹ سے ہنگامی درخواست کی ہے کہ ریاست کیلیفورنیا کو 20 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹروں کے ڈاک کے ذریعے آنے والے بیلٹ گننے سے عارضی طور پر روکا جائے۔ رپورٹ کے مطابق وفاقی حکام کا الزام ہے کہ یہ ووٹر غالباً امریکی شہری نہیں ہیں۔
یہ درخواست محکمہ انصاف نے دائر کی ہے، جو چاہتا ہے کہ ہر ووٹر کی شہریت کی تصدیق ہونے تک ان متنازع بیلٹ کی گنتی نہ کی جائے۔ قانونی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے اور اس کا اثر 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ہزاروں ووٹروں پر پڑ سکتا ہے۔
ان انتخابات میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیلیفورنیا آبادی کے لحاظ سے امریکا کی سب سے بڑی ریاست ہے اور ڈیموکریٹک پارٹی کا مضبوط گڑھ سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے انتخابات سے قبل غیر شہریوں کے مبینہ ووٹ ڈالنے پر توجہ بڑھا دی ہے۔ ٹرمپ ملک میں وسیع پیمانے پر ووٹنگ فراڈ کے بارے میں غلط دعوے کرتے رہے ہیں، جن میں 2020 کا وہ الیکشن بھی شامل ہے جس میں انہیں ڈیموکریٹ جو بائیڈن سے شکست ہوئی تھی۔ متعدد مطالعات اور ریاستی آڈٹ کے مطابق نااہل افراد، بشمول غیر شہریوں، کا ووٹ ڈالنا نایاب ہے۔
امریکی آئین انتخابات کے انتظام کی ذمہ داری ریاستوں کو سونپتا ہے، تاہم وفاقی حکومت کو بھی کچھ نگرانی کا اختیار حاصل ہے۔











