میٹا نے نوعمر لڑکی کا مقدمہ نمٹا لیا، لاس اینجلس ٹرائل میں صرف اسنیپ رہ گئی

لاس اینجلس: امریکی کمپنی میٹا پلیٹ فارمز نے سوشل میڈیا کی لت سے متعلق ایک نوعمر لڑکی کے مقدمے میں 30 اکتوبر کو عدالت سے باہر معاہدہ کر لیا۔ رپورٹس کے مطابق اس کے بعد آئندہ ٹرائل میں اسنیپ ہی واحد کمپنی ہوگی جسے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مدعیہ کی شناخت کے ڈی بی کے نام سے ظاہر کی گئی ہے، جو مسسپی کی رہائشی 18 سالہ خاتون ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ انسٹاگرام اور فیس بک کے استعمال سے وہ لت، ذہنی صحت کے مسائل اور کھانے پینے کی بے ضابطگیوں کا شکار ہوئیں۔ معاہدے کی مالی شرائط ظاہر نہیں کی گئیں۔
میٹا اس سے قبل دوسرے مدعی ایس جے کے ساتھ بھی تصفیہ کر چکی ہے۔ دونوں مدعیوں نے ٹک ٹاک اور یوٹیوب کے ساتھ بھی معاملات طے کر لیے تھے۔
ٹرائل کے لیے جیوری کا انتخاب 28 اکتوبر کو شروع ہوا۔ یہ مقدمہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف دائر ہزاروں مقدمات میں سے منتخب کیے گئے نمونے کے مقدمات میں شامل ہے۔
میٹا کا کہنا ہے کہ وہ کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور عدالت میں اپنا دفاع جاری رکھے گی۔
میٹا کی حالیہ لابنگ دستاویزات میں بچوں کی حفاظت اور والدین کی منظوری کے موضوعات درج ہیں، جبکہ اسنیپ کی دستاویزات میں کڈز آن لائن سیفٹی ایکٹ اور چلڈرن اینڈ ٹینز آن لائن پرائیویسی پروٹیکشن ایکٹ کا ذکر ہے۔











