پیٹرولیم لیوی میں فوری کمی مسترد، آئندہ بجٹ میں مرحلہ وار کمی پر غور

اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے جمعرات کو کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے دباؤ پر پیٹرولیم لیوی کی شرح میں فوری کمی نہیں کی جائے گی، تاہم آئندہ بجٹ میں مرحلہ وار کمی پر غور کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے جو قابل عمل تجاویز کا جائزہ لے گی۔ حکومت کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، احسن اقبال اور رانا ثناء اللہ کمیٹی میں شامل ہوں گے، جبکہ جماعت اسلامی اپنے تین نمائندے نامزد کرے گی۔ ان کے مطابق عوام کو ریلیف دینا دونوں فریقوں کا مشترکہ مقصد ہے۔
جماعت اسلامی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی قیمتوں میں اضافے کے دوران بھاری لیوی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ اس کا وفد اسی ہفتے وزیراعظم سے بھی ملا تھا۔
احسن اقبال نے کہا کہ مشکل سے سنبھالی گئی معاشی صورت حال ماضی کی غلطیوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ان کے بقول وقتی عوامی پذیرائی کے لیے ایسا فیصلہ نہیں ہونا چاہیے جو کل ملک کے لیے بڑا بحران بن جائے۔ انہوں نے بتایا کہ کم آمدنی والے طبقات کے لیے ریلیف اسکیم میں تقریباً 1 کروڑ 27 لاکھ افراد رجسٹر ہو چکے ہیں۔
اس وقت فی لیٹر 80 روپے لیوی، 5 روپے کلائمیٹ لیوی اور 20.56 روپے کسٹم ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے، یعنی مجموعی طور پر تقریباً 106 روپے۔
دوسری جانب وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب میں بتایا کہ مالی سال 2022-23 سے 2025-26 تک پیٹرولیم لیوی کی مد میں 4.4 ٹریلین روپے جمع ہوئے، جو 4.2 ٹریلین کے ہدف سے 227 ارب روپے زیادہ ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں 1.468 ٹریلین کے ہدف کے مقابلے میں عارضی وصولی 1.567 ٹریلین روپے رہی۔ رواں مالی سال کا تخمینہ 1.676 ٹریلین روپے ہے۔
وزیر پیٹرولیم کے مطابق لیوی کی وصولی آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ پروگرام کے تحت طے شدہ مالی اہداف کا بھی حصہ ہے۔











