خام تیل 118 ڈالر فی بیرل پر، چھ ماہ کی بلند ترین سطح

نیویارک/لندن: عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت جمعہ 30 اکتوبر 2026 کو بڑھ کر 118 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جو گزشتہ چھ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ ایک روز میں برینٹ تقریباً 2.5 فیصد مہنگا ہوا، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 2.30 فیصد اضافے کے ساتھ 104 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
قیمتوں میں اضافے کی وجہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور سعودی عرب میں توانائی کی تنصیبات پر نئے حملے اور ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشات بتائے جا رہے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی آپشنز پر بریفنگ دی جا رہی ہے اور انہوں نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا امکان کھلا رکھا ہے۔
سفارتی محاذ پر پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ایرانی قیادت کو بھیجے گئے خط کا اب تک جواب نہیں آیا۔ تہران کا مؤقف ہے کہ مذاکرات کے لیے ایرانی تیل کی برآمدات پر امریکی پابندی ہٹانا اور منجمد ایرانی رقوم جاری کرنا ضروری ہے۔
جے پی مورگن کی ماہر نتاشا کنیوا کے مطابق ان کے ماڈل میں برینٹ کی بنیادی قیمت تقریباً 94 ڈالر بنتی ہے، یعنی منڈی کی قیمت اس سے خاصی اوپر ہے۔
بلومبرگ کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تازہ اعداد و شمار میں خشکی پر موجود فوری قابل استعمال تیل کے ذخائر کم از کم 2016 کے بعد کی کم ترین سطح کے قریب ہیں، اس لیے منڈی کسی نئی رکاوٹ کے سامنے کمزور ہے۔
کیپلر کے اعداد کے مطابق خلیج سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل یومیہ سطح سے بڑھ چکی ہیں، تاہم مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں کے مطابق ریفائنریوں کو ترسیل سمیت مجموعی رسد گزشتہ سال سے کم ہے۔
یو بی ایس کے ڈومینک ایلس کے مطابق ایکسون اور شیورون کے اعلیٰ عہدیداروں نے آئندہ ہفتے ابوظہبی میں ہونے والی ایڈیپک کانفرنس میں شرکت منسوخ کر دی ہے۔











