رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° جزوی بادل 23° / 11°فجر 05:28ظہر 12:16عصر 16:04مغرب 17:41عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
لوئر چترال پولیس کی منشیات کے خلاف کمیونٹی مہم کے حوصلہ افزا نتائجاے این پی کا صوبائی اجلاس، امن و امان پر تشویش اور جلسے کی تیاریوں کا جائزہشانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار اور معمولات زندگی مفلوجبیکن ہاس کینال سائیڈ میں جونیئر بچوں کا سپورٹس گالا منعقدآر پی او ملاکنڈ زاہد نواز مروت کا شانگلہ کا دورہ، شجرکاری اور ترقیاتی کاموں کا معائنہپاکستان، سری لنکا پہلے ٹیسٹ کے ٹکٹ جمعہ سے فروخت ہوں گےمدینہ منورہ پر حوثی حملے کی علما کونسل کی شدید مذمتاکتوبر میں 5 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر، کل تعداد 3 لاکھ 21 ہزار سے تجاوزکشمیر چوک انڈر پاس 27 دن میں مکمل، وزیراعظم کی تقریب سے خطابقومی کرکٹرز کو افغانستان پریمئر لیگ کے لیے این او سی نہیںبھارتی سموگ پاکستان سمیت خطے کی فضا کو زہر آلود کرنے لگیآر پی او زاہد نواز مروت کا شانگلہ میں امن و امان پر زور

امریکی انتخابی نتائج ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل ہیں: سینیٹر عبدالقادر

امریکی انتخابی نتائج ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل ہیں: سینیٹر عبدالقادر
فائل فوٹو — تصویر: بشکریہ senate.gov.pk

کوئٹہ (آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی شکست صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں، ایران کے ساتھ طویل جنگ، مہنگائی اور عوام میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے خلاف واضح انتخابی ردعمل ہے۔ ان کے مطابق ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں اکثریت حاصل کر کے آئندہ کانگریس میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔ ٹیکساس سمیت ان ریاستوں میں بھی انہیں اہم کامیابیاں ملی ہیں جو روایتی طور پر ریپبلکن سمجھی جاتی ہیں۔

سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام کی معاشی مشکلات بڑھائیں اور اس کا اثر انتخابی نتائج میں بھی دکھائی دیا۔ ان کے بقول نتائج کا پیغام یہ ہے کہ عوام مسلسل جنگ، بڑھتے اخراجات اور معاشی غیر یقینی صورتِ حال سے نجات چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان نتائج کے اثرات صرف امریکی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی پالیسیوں، ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور اسرائیل کی غیر مشروط حمایت پر سیاسی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس دباؤ کے عملی نتائج نئی کانگریس کے فیصلوں اور امریکی انتظامیہ کے طرزِ عمل پر منحصر ہوں گے۔

سینیٹر محمد عبدالقادر نے اسرائیل کی صورتِ حال کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہاں وزیراعظم نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات اور حکومت سازی میں تعطل بھی خطے کے لیے اہم ہیں۔ ان کے مطابق اگر اسرائیل میں نئی قیادت سامنے آتی ہے اور امریکہ میں جنگ مخالف سیاسی دباؤ بڑھتا ہے تو ایران کے ساتھ مذاکرات، فلسطین میں امن اور لبنان سمیت خطے کے دیگر محاذوں پر کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں میں عملی تبدیلی، ایران کے ساتھ بامقصد مذاکرات، فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی پاسداری اور علاقائی ممالک کی خودمختاری کا احترام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تبدیلیاں اسی وقت امن کی حقیقی امید بن سکتی ہیں جب ان کے نتیجے میں جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

دوسری جانب وزیراعظم یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن اور مسلم لیگ کے مرکزی سینئر رہنما چوہدری نعیم کریم نے 6 نومبر کو یومِ شہدائے جموں و کشمیر کے موقع پر مسلم لیگ بلوچستان کے رابطہ آفس سے جاری بیان میں کہا کہ 6 نومبر 1947 جموں و کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، جب ڈوگرہ مہاراجہ کی فوج اور شرپسندوں نے جموں میں مسلمانوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے جموں کی قربانیوں نے تحریکِ آزادی کشمیر کی بنیادیں مضبوط کیں اور انہی کی بدولت مسئلہ کشمیر آج بھی زندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے پر زور دیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے میں کردار ادا کرے۔

اشتہار