رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 21° / 11°فجر 05:26ظہر 12:16عصر 16:07مغرب 17:43عشا 19:05
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
فاٹا انضمام کے دس سال بعد بھی بندوبستی نظام کے بنیادی مسائل حل نہ ہو سکے: فضل الرحمٰنجناح میڈیکل کمپلیکس: تعمیر پر پیش رفت تسلی بخش، اہداف معینہ مدت میں حاصل کرنے کی ہدایتحناء الطاف کے کراچی سے متعلق بیان پر حنا پرویز بٹ کا ردعمل، لاہور آنے کی دعوتپی سی بی پیٹرنز الیون کی سری لنکا ٹیسٹ سیریز کی تیاریاں، 4 سے 6 نومبر پریکٹس میچہانگ کانگ سکسز: عباس آفریدی کی پانچ ٹرافیوں کے ساتھ تصویر وائرلپاکستان نے آسٹریلیا کو ایک وکٹ سے شکست دے کر اوور 40 ورلڈ کپ جیت لیاتین ملکی ون ڈے سیریز جیت کر پاکستان کی آئی سی سی رینکنگ میں بہتریایرانی 7 نکاتی تجویز پر آئندہ چند روز میں عملدرآمد کا امکان: اسماعیل بقائیاکتوبر میں مہنگائی کی سالانہ شرح 9.61 فیصد تک پہنچ گئیچینی کمیونسٹ پارٹی کے وزیر لیو ہائیشنگ کی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقاتیںچھوٹے کاروبار کو قرضوں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیراعظم شہباز شریفبیرسٹر سلمان صفدر کی اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی سے 40 منٹ ملاقات
صفحہ اول› بلوچستان ›صحبت پور

صحبت پور: ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کا اجلاس

صحبت پور: ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے کہا کہ پولیو کا مکمل خاتمہ حکومت بلوچستان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ پولیو جیسی مہلک اور معذور کر دینے والی بیماری کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جس کے لیے حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون بھی نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کو چاہیے کہ وہ پولیو کے خلاف جاری قومی مہم میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور پانچ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے لازمی پلوائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس موذی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج نومبر میں شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، عالمی ادارہ صحت WHO کے نمائندگان اور محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں بریفنگ اور ہدایات

اجلاس کے دوران محکمہ صحت کی جانب سے ڈپٹی کمشنر کو نومبر میں شروع ہونے والی پولیو مہم کی تیاریوں، انتظامات، مائیکرو پلاننگ، پولیو ٹیموں کی تشکیل، تربیت، حساس علاقوں کی نشاندہی، ٹرانزٹ پوائنٹس اور مہم کو مؤثر انداز میں کامیاب بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ پولیو مہم کے دوران تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ہر علاقے اور ہر گھر تک رسائی کو یقینی بنایا جائے، پولیو ٹیموں کی کارکردگی کی مؤثر نگرانی کی جائے اور کسی بھی علاقے میں پانچ سال تک کی عمر کا کوئی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہنے پائے۔

انہوں نے کہا کہ مہم کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو فوری طور پر حل کیا جائے اور پولیو ٹیموں کو درکار سہولیات اور سکیورٹی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

آگاہی اور تعاون

انہوں نے مزید کہا کہ پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین میں شعور و آگاہی پیدا کرنا انتہائی اہم ہے۔ علماء کرام، اساتذہ، سماجی رہنماؤں اور بلدیاتی نمائندوں کو بھی اس قومی فریضے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ عوام میں پولیو ویکسین کی اہمیت کے حوالے سے اعتماد پیدا ہو اور ہر گھرانے کو اس بات کا احساس ہو کہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ان کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت انسدادِ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھیں گے۔

اشتہار