رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ہرنائی: بیڈمنٹن ایسوسی ایشن کا ڈپٹی کمشنر سے ملاقات، ضلعی ٹورنامنٹ پر اتفاقتربت: جامعہ تربت کے بی ایس بوٹنی طلبہ کا جوسک کے طفیل ایگریکلچرل فارم کا تحقیقی دورہلورالائی: ڈپٹی کمشنر کی صدارت میں زرعی آمدنی ٹیکس اور محکمہ مال کا بارہواں جائزہ اجلاسدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ اور معائنہدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی صدارت میں انسدادِ پولیو مہم کا جائزہ اجلاسگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا پشکان کے ڈگارو میں نیو پمپنگ اسٹیشن کا افتتاحگوادر: مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کا سربندن کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کا دورہگوادر: ہاشو فاؤنڈیشن کے وفد کی ضلع کونسل گوادر کے چیئرمین شئے مختار بلوچ سے ملاقاتلسبیلہ: آر سی ڈی شاہراہ سے تین بارودی مواد ناکارہ، بم ڈسپوزل ٹیم کو سرٹیفکیٹ کا اعلانلسبیلہ: آر سی ڈی شاہراہ پر حادثات کی روک تھام کے لیے ڈیٹا کلیکشن کمیٹی قائمنصیرآباد: پٹ فیڈر کینال کے کاشتکاروں کو زرعی پانی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایتصحبت پور: ڈپٹی کمشنر فریدہ ترین کی زیرصدارت ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس

بلوچستان سول سروس اکیڈمی میں ڈیجیٹل گورننس کا تین روزہ تربیتی کورس شروع

بلوچستان سول سروس اکیڈمی میں ڈیجیٹل گورننس کا تین روزہ تربیتی کورس شروع
فائل فوٹو: بلوچستان سول سروس اکیڈمی کوئٹہ کی عمارت — تصویر: بشکریہ bcsagob.edu.pk

بلوچستان: بلوچستان سول سروس اکیڈمی (BCSA) نے ‘اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان’ کے اشتراک سے مختلف صوبائی محکموں کے سرکاری افسران کے لیے ڈیجیٹل گورننس کے عنوان سے پیر کے روز تین روزہ تربیتی کورس کا آغاز کر دیا ہے۔

اس کورس کا مقصد ‘ڈیجیٹل گورننس’ اور سرکاری امور میں ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ (مصنوعی ذہانت) کے استعمال کے ذریعے عوام کو بروقت خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

افتتاحی تقریب

ٹریننگ کورس کے افتتاح کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقیِ نسواں ڈاکٹر ربابہ بلیدی، بلوچستان سول سروس اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جناب ڈاکٹر حفیظ جمالی نے مختلف سرکاری محکموں سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے خطاب کیا۔

شرکاء سے اپنے استقبالیہ خطاب میں ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے بلوچستان میں گورننس کے نظام کو ڈیجیٹلائز کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا، “بطور حکومت، ہم تمام سرکاری امور کو ڈیجیٹلائز کر کے بہتر طرز حکمرانی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس ورکشاپ میں آپ جو مہارتیں سیکھیں گے وہ انتہائی اہمیت کی حامل ہوں گی، جو ہمارے افسران کو بلوچستان کے عوام کی خدمت کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔”

انہوں نے سرکاری افسران کے لیے جدید کورسز کے انعقاد پر بی سی ایس اے (BCSA) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے حال ہی میں ‘ای-خدمت’ (E-Khidmat) سروس کا آغاز کیا گیا ہے تو ہم بلوچستان میں ایسی سروسز کیوں شروع نہیں کر سکتے۔

عوام اور حکومت کے درمیان موجود خلیج کو دور کرنے کے لیے ہمیں بھی ایسی سروسز کا آغاز کرنا ہو گا جن کے ذریعے عوام کے مسائل کا حل بروقت ممکن ہو سکے، اور اس کے لیے تمام سرکاری محکموں کے امور کو ڈیجیٹل بنانے اور سرکاری امور میں تیزی لانے کے لیے ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ (AI) کا استعمال شروع کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا، “یہ صدی ‘ڈیٹا’ کی صدی ہے؛ جب تک ہم نئی چیزیں نہیں سیکھیں گے، تب تک ہم معاشرے میں تبدیلی نہیں لا سکتے۔”

تربیتی کورس کی تفصیلات

بی سی ایس اے کے ڈائریکٹر جنرل جناب ڈاکٹر حفیظ جمالی نے شرکاء کے لیے معیاری تربیتی سیشن کے انعقاد میں تعاون پر ‘اکاونٹیبلٹی لیب پاکستان’ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ “یہ تربیتی کورس بی سی ایس اے اور شرکاء کو ‘ڈیجیٹل گورننس’ کے طریقہ کار، روزمرہ سرکاری امور میں ‘آرٹیفیشل انٹیلی جنس’ کے استعمال اور ‘ری ڈیزائن تھنکنگ’ کو اپنے سرکاری معاملات میں استعمال کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔”

مختلف سرکاری محکموں کے 30 شرکاء کے لیے منعقدہ یہ تربیتی کورس 4 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوگا۔

اس کورس میں ڈیجیٹل گورننس ٹولز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے متعلق مختلف نشستیں شامل ہوں گی، جن کا مقصد سرکاری امور کو بہتر بنانا اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

اشتہار