عثمان خواجہ کا دعویٰ: 2018 کے بال ٹیمپرنگ سے پوری ٹیم واقف تھی، لیہمن کا ردعمل

سڈنی: آسٹریلیا کے سابق اوپنر عثمان خواجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ 2018 کے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کا علم پوری آسٹریلوی ٹیم کو تھا، جبکہ سابق ہیڈ کوچ ڈیرن لیہمن نے ان انکشافات پر سوال اٹھایا ہے۔
خواجہ کے مطابق یہ معاملہ صرف بلے بازوں یا گیند بازوں تک محدود نہیں تھا بلکہ کھلاڑی اور سپورٹ اسٹاف سب شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ذمہ داری سب پر عائد ہوتی ہے۔ یہ باتیں انہوں نے اپنی آنے والی خود نوشت «صبر» کی اشاعت سے پہلے انٹرویوز میں کہیں۔
اب تک کرکٹ آسٹریلیا کی تحقیقات کے مطابق صرف اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر اور کیمرون بینکرافٹ کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ اسمتھ اور وارنر پر ایک ایک سال اور بینکرافٹ پر نو ماہ کی پابندی لگی تھی۔
خواجہ نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ آٹھ سال میں کوئی اور کھلاڑی سچ بتائے گا، مگر ایسا نہ ہوا۔ ان کے بقول وہ ٹیسٹ میں بینکرافٹ کے برابر بیٹھے تھے، اس کے باوجود تحقیقات میں ان سے بات نہیں کی گئی اور وہ فون کا انتظار کرتے رہے۔
مچل اسٹارک، پیٹ کمنز، جوش ہیزل ووڈ اور ناتھن لائن 2021 میں مشترکہ بیان میں واضح کر چکے ہیں کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔
اے بی سی گرینڈ اسٹینڈ پر گفتگو میں لیہمن نے کہا کہ بعض باتیں کھیل اور متعلقہ لوگوں کے مفاد میں نہ کہی جائیں تو بہتر ہے۔ انہوں نے کتابوں کو فروخت کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ خواجہ نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔
لیہمن کے مطابق انہیں یاد نہیں کہ خواجہ نے اس وقت اجتماعی ذمہ داری کی بات کی ہو، کیونکہ کیپ ٹاؤن میں دو ڈریسنگ روم تھے اور ہر طرف اجلاس ہو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں سب کو علم نہیں تھا، اور یہ فیصلہ اسٹارک، کمنز، ہیزل ووڈ اور لائن پر ہے کہ وہ خواجہ سے بات کریں۔











