امریکی وسط مدتی انتخابات: ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں جیتنے کی پوزیشن میں، ٹرمپ کو بڑا دھچکا

واشنگٹن: امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، کا کنٹرول ری پبلکن پارٹی سے چھین لیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے تخمینے کے مطابق ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیں گے، جبکہ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے کئی اہم ریاستوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔
یہ نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ان کی دوسری مدتِ صدارت کے وسط میں ایک بڑا سیاسی دھچکا ہیں۔ انتخابات سے پہلے دونوں ایوانوں میں ری پبلکنز کی اکثریت تھی۔
ایوانِ نمائندگان
ایوانِ نمائندگان کی کل 435 نشستوں میں اکثریت کے لیے 218 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔ امریکی چینل سی این بی سی کے الیکشن ڈیسک کے تخمینے کے مطابق ڈیموکریٹس کم از کم 245 نشستیں جیت لیں گے، جو واضح اکثریت ہوگی۔ ڈیموکریٹس نے آئیووا، ٹیکساس، اوہائیو، پنسلوینیا، انڈیانا، نیبراسکا اور ورجینیا سمیت کئی ریاستوں میں ری پبلکنز سے نشستیں چھینی ہیں۔
سینیٹ
سینیٹ کی 100 نشستوں میں اس بار ایک تہائی پر انتخاب ہوا۔ اے پی کے تخمینوں کے مطابق ڈیموکریٹس نے آئیووا، کنساس، نارتھ کیرولائنا، اوہائیو، ساؤتھ کیرولائنا اور ٹیکساس میں ری پبلکنز سے نشستیں چھین لیں، جبکہ ریاست مین میں ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹر چلی آ رہی ری پبلکن سوزن کولنز کو شکست دی۔ سی این بی سی کے مطابق ڈیموکریٹس کم از کم 51 نشستیں حاصل کر لیں گے، جو سینیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے کم از کم درکار تعداد ہے۔
ریاست مشی گن میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید کو اے پی اور سی بی ایس نیوز نے کامیاب قرار دیا ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق وہ امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن ہوں گے۔ اوہائیو میں سابق سینیٹر شیروڈ براؤن ایک بار پھر سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔
الاسکا، مسیسیپی اور نیبراسکا میں سینیٹ کی نشستوں پر مقابلہ ابھی بہت قریبی ہے اور ان کے نتائج کا اعلان نہیں ہوا۔ ملک بھر میں ووٹنگ الاسکا میں پاکستانی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے مکمل ہوئی۔
گورنرز کے انتخابات
گورنرز کے انتخابات میں بھی ڈیموکریٹس کو کامیابیاں ملی ہیں۔ تخمینوں کے مطابق اوہائیو میں ڈیموکریٹ ایمی ایکٹن نے ری پبلکن وویک راماسوامی کو شکست دی، جبکہ مشی گن اور وسکونسن میں بھی گورنر کی نشست ڈیموکریٹس کے حصے میں آئی ہے۔
صدر ٹرمپ کے لیے اس کا مطلب کیا ہے
نئی کانگریس 3 جنوری 2027 کو حلف اٹھائے گی۔ دونوں ایوانوں میں اکثریت کے بعد ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے، بجٹ اور اہم تقرریوں پر کہیں زیادہ اثرانداز ہو سکیں گے، اور کانگریس کی کمیٹیاں حکومت کی پالیسیوں کی تحقیقات بھی کر سکیں گی۔ سی بی ایس نیوز کے ایگزٹ پول کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت 38 فیصد رہی، جو کسی بھی صدر کے لیے وسط مدتی انتخابات کے موقع پر ریکارڈ کم سطح ہے۔
یہ نتائج ابتدائی تخمینوں پر مبنی ہیں؛ سرکاری نتائج کا اعلان ریاستیں ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد کریں گی۔
تصویر: ویکی میڈیا کامنز / آرکیٹیکٹ آف دی کیپیٹل (پبلک ڈومین)











