رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 14° ابر آلود 21° / 11°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
حارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوششمالی کوریا کا بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ہونے کے ایف بی آئی الزام کو مستردنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےیورپ کے سپر مارکیٹس میں فریزرز ہیک، سویڈن سے بیلجیم تک خوراک ضائع کرنا پڑیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیبیرسٹر گوہر: سیاسی تنائو مزید نہ بڑھایا جائے، مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائےکوئٹہ کی عابدہ بتول عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بن گئیںایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جاری، نئے علاقائی سکیورٹی انتظامات پر کوششبلاول بھٹو کی زیرِ صدارت پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعظم سے ملاقات پر غورسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےٹرمپ کا انتباہ: ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت لیں تو ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا

خیبرپختونخوا: پبلک ورکس مد میں 16.54 ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں، آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی

خیبرپختونخوا: پبلک ورکس مد میں 16.54 ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں، آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی

پشاور: خیبرپختونخوا میں سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق آڈٹ رپورٹس میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ صوبائی قیادت کے خلاف تحقیقات بھی تیز ہو گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پبلک ورکس کے بجٹ ہیڈ (G10113) کے تحت 2016 سے اپریل 2025 کے دوران 29 اضلاع میں 16.54 ارب روپے کی اضافی ادائیگیاں کی گئیں۔ اکاؤنٹس میں 146.59 ارب روپے جمع ہوئے، جبکہ ادائیگیاں 163.13 ارب روپے کی گئیں۔ یوں بڑا فرق سامنے آیا جس کی وضاحت نہیں ہو سکی۔

کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس نے کہا ہے کہ مشتبہ خردبرد کا مجموعی حجم 56.5 ارب روپے تک جا سکتا ہے۔ تحقیقات میں مواصلات و تعمیرات، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور آبپاشی کے محکموں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مشیر اطلاعات سمر ہارون بلور نے صحافیوں کو بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اس وقت “حفاظتی تحویل” میں ہیں اور ان کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ ان بے ضابطگیوں کی مالیت اربوں روپے بتائی گئی ہے۔

ابتدائی انکوائری میں صحت کارڈ پروگرام سمیت مختلف صوبائی محکموں میں مالی بدعنوانی اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں اور ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے پر مقدمات نیب اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔

مالی سال 2024-25 کی آڈٹ رپورٹس میں نامکمل ریکارڈ اور خریداری کے نظام کی کمزوریوں کا بھی ذکر ہے۔ وفاقی اور صوبائی آڈٹ رپورٹس نے قرضوں کے نامکمل ریکارڈ کی وجہ سے مالی نگرانی اور بجٹ شفافیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ آڈیٹرز کے مطابق اخراجات، ترقیاتی فنڈز اور بیرونی قرضوں کے حسابات کی یہ خامیاں صوبے کے مالی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

اشتہار