رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 21° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰگوادر: عوامی حلقوں کا ٹیچنگ ہسپتال میں ادویات اور بھرتیوں کے اقدامات پر وزیراعلیٰ اور مولانا ہدایت الرحمن کا شکریہبارکھان: پی پی ایچ آئی کی ”صحت دہلیز“ ایپ سے گھر بیٹھے آن لائن طبی مشورہ ممکن، ڈسٹرکٹ منیجر غلام رسولسیکرٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری کا کوئٹہ کے بی اے مال میں محکمے کے آگاہی اسٹال کا دورہزیارت ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت بابِ زیارت، اسکولوں، سڑکوں اور واٹر سپلائی سمیت مختلف منصوبوں پر کام جاریکوئٹہ: چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی زیرصدارت انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس، ماحولیاتی نمونے منفیکوئٹہ: ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی کا کلی شابو میں ادارہ برائے خصوصی بچوں کا دورہبارکھان: ضلعی ناظم صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کا ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ایم سی ایچ سنٹر کا اچانک دورہ

عمر خالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی: سابق جج دھولیا

عمر خالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی: سابق جج دھولیا
فائل فوٹو: طالب علم رہنما عمر خالد — تصویر: بشکریہ livelaw.in

نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس سدھانشو دھولیا نے کہا ہے کہ طلبہ رہنماؤں عمر خالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جسٹس دھولیا نے نئی دہلی میں تیسرے سر سید لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی آئین کے تحت انصاف کے تصور پر گفتگو کی اور دونوں رہنماؤں کی طویل نظربندی پر تشویش ظاہر کی۔

جسٹس دھولیا نے کہا کہ میری ذاتی رائے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو بہت پہلے ضمانت مل جانی چاہیے تھی۔

عمر خالد اور شرجیل امام 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مقدمے کے سلسلے میں نظربند ہیں۔ ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون (یو اے پی اے) کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کی ہے۔

جسٹس دھولیا کا یہ بیان مقدمے کی سماعت سے پہلے طویل نظربندی، تیز رفتار ٹرائل کے حق اور قومی سلامتی کے قوانین و شخصی آزادی کے درمیان توازن پر جاری وسیع تر بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔

ضمانت ملنے سے کسی ملزم کا قصوروار یا بے قصور ہونا طے نہیں ہوتا۔ اس کا تعین قانونی کارروائی کے ذریعے ہونا چاہیے۔

جسٹس دھولیا کے بیان کو یو اے پی اے کے تحت مقدمات میں ضمانت دینے میں تاخیر پر عدالتی نظام کے اندر سے اٹھنے والے سوالات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔