وائٹ ہاؤس: نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ امریکا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔
عرب ٹی وی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی نائب ترجمان اینا کیلی نے ایران کی قیادت کو نشانہ بنانے سے متعلق صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے مبینہ مذاکرات پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے بقول ایران معاشی اور فوجی دونوں لحاظ سے انتہائی خراب حالت میں ہے۔
انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ آبنائے ہرمز میں ایران کی بحری ناکہ بندی پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گی اور ایرانی بندش کے باوجود آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل ریکارڈ سطح پر جاری ہے۔
اینا کیلی نے واضح الفاظ میں کہا کہ امریکا نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کرے گا।
نیتن یاہو کا دعویٰ اور ٹرمپ کا عندیہ
قبل ازیں صدر ٹرمپ بھی عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملے سے گریز کریں گے، لیکن اس کے بعد بھرپور اور حتمی حملہ کریں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ ایرانی قیادت کو ختم کرنے کے ان کے منصوبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس کے تازہ بیان سے کسی فوری حملے کی تردید ہو گئی۔
واضح رہے کہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات نومبر میں ہوں گے، لیکن ایران جنگ کے باعث بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں اور جنگ میں خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے پر صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں بے پناہ کمی واقع ہوئی ہے اور کئی معرکوں میں ان کی شکست کے سائے گہرے ہیں۔











