روس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ماسکو: روسی مسلح افواج نے یوکرین کے مختلف علاقوں میں رات گئے ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں میں لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں کی تنصیبات اور فوجی سامان کی ترسیل میں استعمال ہونے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق ان کارروائیوں میں وہ اہم تنصیبات نشانہ بنیں جو یوکرینی فوج کے لیے فوجی اور دوہرے استعمال کا سامان ذخیرہ اور منتقل کرنے میں استعمال ہوتی تھیں۔
خمیلنیتسکی، کوویل اور رینی بندرگاہ نشانے پر
وزارت کے مطابق شہر خمیلنیتسکی میں گرینڈ امپورٹ لاجسٹکس مرکز پر حملہ کیا گیا، جہاں یوکرینی فوج کے لیے مختص فوجی اور دوہرے استعمال کا سامان ذخیرہ کیا جاتا تھا۔
بیان کے مطابق وولین ریجن کے شہر کوویل میں وینڈر ٹرانس سروس کمپنی کے ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ روسی حکام کے مطابق یہ مرکز یوکرینی فوج کے لیے سامان اور دیگر ضروری وسائل ذخیرہ اور تقسیم کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ رینی بندرگاہ پر تین مال بردار بحری جہاز نشانہ بنے، جو یوکرینی فوج کے لیے فوجی اور دوہرے استعمال کا سامان لے جا رہے تھے۔ اس کارروائی میں بندرگاہ پر سامان لادنے اور اتارنے کی تنصیبات بھی نشانہ بنیں۔
روسی حکام کے مطابق بحیرہ اسود میں اوڈیسا کی بندرگاہ کی جانب جانے والے ایک مال بردار جہاز پر بھی حملہ کیا گیا۔ روس کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز یوکرین کے لیے فوجی سامان لے جا رہا تھا۔
یوکرین میں توانائی تنصیبات متاثر
یوکرین کی ریاستی ایمرجنسی سروس کے مطابق کیف ریجن میں ایک صنعتی گودام کو نقصان پہنچا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ امدادی کارروائیوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔
لیوو ریجن کے گورنر میکسم کوزیتسکی نے بتایا کہ دو دھماکوں سے علاقے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ایک اہم تنصیب کو نقصان پہنچا۔ ترنوپل ریجن کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تاراس پاستوخ کے مطابق علاقے میں توانائی کی تین تنصیبات متاثر ہوئیں۔
اوڈیسا ریجن کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ اولیگ کیپر نے بھی توانائی کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی تصدیق کی، تاہم مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
روسی وزارت دفاع نے ان حملوں کو یوکرینی فوج کے لیے سامان کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے نظام کے خلاف کارروائی قرار دیا ہے۔ یوکرینی حکام نے مختلف علاقوں میں صنعتی اور توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کی اطلاع دی ہے۔
روسی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ ممکنہ جانی نقصان کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔











