گورنر راج کے باوجود جنید اکبر پی ٹی آئی کے صوبائی صدر برقرار، تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے باوجود اپنا موجودہ تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھنے اور جنید اکبر خان کو صوبائی صدر کے عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں جنید اکبر کی عدم موجودگی میں تنظیمی ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے متبادل انتظامات بھی واضح کیے گئے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر جنید اکبر خان کی عدم موجودگی میں سینیٹر نورالحق قادری پارٹی اجلاسوں کی صدارت کریں گے اور پارٹی آئین کے مطابق اپنے فرائض انجام دیں گے۔ نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری علی اصغر خان صوبے میں پارٹی کے تمام تنظیمی امور کی مجموعی نگرانی کریں گے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پارٹی کے موجودہ تنظیمی ڈھانچے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی اور تنظیمی معاملات پہلے سے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق جاری رہیں گے۔
جنید اکبر کی موجودگی پر سوالات
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے جنید اکبر خان کی موجودگی کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔ پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے صوبائی صدر کو پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ گرفتار کیا گیا، تاہم سرکاری حکام کی جانب سے اس حوالے سے عوامی سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔ جنید اکبر کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں پر پشاور ہائی کورٹ نے بھی متعلقہ حکام سے جواب طلب کر رکھا ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے تین روز قبل کہا تھا کہ جنید اکبر کی عدم موجودگی میں علی اصغر خان قائم مقام صوبائی سربراہ کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
جنید اکبر خان گزشتہ ماہ ستمبر میں اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ کی تیاریوں کے دوران بھی خبروں میں رہے تھے۔ 20 ستمبر کو پشاور میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت استعمال کرنے سے خبردار کیا تھا۔ اس موقع پر ان سے منسوب بیان، ہم اسلام آباد کو سومناتھ بنا دیں گے، بھی سامنے آیا تھا۔
وفاقی حکومت نے اس اقدام کے لیے صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر صوبائی حکومت کے ساتھ ناکافی تعاون کو جواز بنایا، جبکہ پی ٹی آئی اس مؤقف کو مسترد کرتی رہی ہے۔ اس دوران صوبے کے 12 متاثرہ اضلاع کے لیے الگ انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے اور مشاورتی نظام متعارف کرانے کے اقدامات بھی سامنے آئے۔
ایسے حالات میں پی ٹی آئی کی جانب سے تنظیمی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کا فیصلہ پارٹی کے اندر انتظامی تسلسل قائم رکھنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم جنید اکبر کی موجودہ صورت حال اور ان کی دستیابی کے بارے میں سرکاری تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔











