رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 22° / 12°فجر 05:21ظہر 12:16عصر 16:12مغرب 17:49عشا 19:10
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ووچچ کی شکست تسلیم، طلبہ کی حمایت یافتہ فہرست سربیا کے انتخابات میں کامیابامریکا کی حراست میں موجود افغانوں کو پاکستان ڈی پورٹ کرنے کے لیے پرواز کا منصوبہ، اتحادیوں کے رشتہ دار بھی شاملقومی اسمبلی نے فرنٹیئر کانسٹیبلری تنظیم نو سمیت اہم بلز منظور کر لیےکرس براؤن کو لندن نائٹ کلب حملے پر معطل سزا سنا دی گئیلولا چوتھی بار برازیل کے صدر منتخب، فلاویو بولسونارو کا شکست تسلیم کرنے سے انکاراسٹار ٹریک کی اصل سیریز کے “چیکوف” والٹر کوینگ 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئےحارث رؤف کا بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز سے معاہدہصائم ایوب تین ملکی ون ڈے اسکواڈ سے ریلیز، صاحبزادہ فرحان کی شمولیتلام فیشن ویک کا تیسرا روز، مشرقی و مغربی ملبوسات کی نمائششیرباز مری نے قازقستان میں نومیڈ ایم ایم اے چیمپئن شپ کا گولڈ میڈل جیت لیاجی ایچ کیو حملہ کیس: طاہر صادق کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم برقرار، وفاق کی درخواست مستردتہران میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش ہونی چاہیے: ایرانی صدر پزشکیان

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش ہونی چاہیے: ایرانی صدر پزشکیان
فائل فوٹو: ایرانی صدر مسعود پزشکیان — تصویر: بشکریہ thearabweekly.com

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش پر زور دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اتوار کو جاری بیان میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عبوری معاہدے کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ فریقین مذاکرات کر رہے تھے، مگر امریکیوں نے سب کچھ برباد کر دیا۔ ان کے بقول اس معاہدے کی تکمیل کے لیے کوشش جاری رہنی چاہیے اور سفارتی عمل کو ترک نہیں کیا جانا چاہیے۔

مینٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے عبوری معاہدے کی جانب ہونے والی پیش رفت کو نقصان پہنچایا۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو بحال کرنے کی اپیل اس بات کا اشارہ ہے کہ تہران امریکا کی پالیسی پر تنقید کے باوجود سفارتی راستے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

بیان میں اس کی تفصیل نہیں دی گئی کہ عبوری معاہدے کی ناکامی کی مخصوص رکاوٹیں کیا تھیں، اور نہ ہی نئے مذاکرات کے لیے کسی وقت کا تعین کیا گیا۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا ایران پر اگلے ہی روز حملہ کر سکتا ہے، تاہم ساتھ یہ بھی کہا کہ ایک بڑا معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ فوجی کارروائی کے بارے میں سوال پر انہوں نے کسی ممکنہ آپریشن کے وقت کے بارے میں بتانے سے انکار کر دیا۔

دونوں صدور کے متضاد بیانات تہران اور واشنگٹن کے تعلقات کی نازک صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک طرف ایران معاہدہ بچانے کی نئی کوششوں پر زور دے رہا ہے، تو دوسری طرف امریکا نے حملے کا امکان کھلا رکھا ہے۔ یوں مذاکرات کی بحالی اور مزید فوجی کشیدگی کے خدشات ساتھ ساتھ موجود ہیں۔