عراق میں ایرانی کرد گروپ کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ، امریکا کا شہریوں کو سفر سے گریز کا انتباہ

تہران: ایران کی مسلح افواج نے عراقی کردستان میں ایرانی کرد اپوزیشن گروپ کے ٹھکانوں پر ڈرون حملہ کیا۔ عرب ٹی وی کے مطابق بالیسان کے علاقے میں گذشتہ رات دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروپ کومالا کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا گیا، جو پاسدارانِ انقلاب کی زمینی افواج کے ایک ڈرون آپریشن کا حصہ تھا۔
اس نیم خود مختار خطے میں ایرانی کرد عسکریت پسندوں کے کئی گروہوں کے کیمپ اور ٹھکانے موجود ہیں، جنہیں ایران فروری میں مشرقِ وسطیٰ جنگ شروع ہونے کے بعد سے بارہا نشانہ بنا چکا ہے۔ آئی آر جی سی نے ان حملوں کی فوری ذمہ داری قبول نہیں کی۔ ایران کا الزام ہے کہ ان گروہوں کو اس کے ازلی دشمن اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔
اس سال 17 جولائی کو ایک انتہائی مہلک حملے میں سلیمانیہ شہر کے قریب کومالا گروپ کے نو ارکان ہلاک ہو گئے تھے۔
دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے عراق میں ممکنہ حملوں کا انتباہ دیتے ہوئے اعلیٰ ترین سطح کی احتیاطی تدابیر برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں کو کسی بھی مقصد کے لیے عراق کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یہ اقدام امریکی شہریوں کی سلامتی یقینی بنانے میں بغداد کی ناکامی کے نتیجے میں اٹھایا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق تشدد یا مسلح تصادم کی صورت میں عراقی حکومت امریکی شہریوں کی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ عراق میں کام کرنے والے امریکی سرکاری ملازمین شدید خطرات کے باعث سخت سکیورٹی پروٹوکول کے تحت رہنے اور کام کرنے کے پابند ہیں۔ سکیورٹی صورتحال کی پیش رفت کے مطابق ملازمین کی صورتحال میں مزید تبدیلیوں کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ سکیورٹی خطرات کے باعث امریکی سرکاری ملازمین کو عراق کے سفر کے لیے خصوصی منظوری درکار ہوتی ہے۔











