عمران خان کو تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان، بامعنی مذاکرات کے لیے غیر مشروط آمادگی: محمود خان اچکزئی

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ اور علامہ ناصر کسی بھی قیمت پر عمران خان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جب سے ہم نے جمہوری سیاست، حقِ خودارادیت اور عوام کو حقِ حکمرانی میں شریک کرنے کی سیاست کا آغاز کیا ہے، ہم تب سے اعتراضات کی زد میں ہیں۔ اب ہمیں ان کی عادت ہو چکی ہے اور ہم ان کی پرواہ نہیں کرتے۔ ذاتی اور جماعتی طور پر ہمارا ضمیر مطمئن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دکھ اس بات کا ہے کہ تحریک انصاف مشکل وقت سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت ان بحرانوں میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہم لوگوں سے نہ ڈنڈے اٹھانے کا کہیں گے اور نہ پتھر مارنے کا، لیکن بالکل خاموش بیٹھے رہنا انتہائی قابلِ مذمت بات ہے۔
پارٹی قیادت اور اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عمران خان نے تین فیصلے کیے۔ پہلا فیصلہ ان کی غیر حاضری میں تحریک انصاف کی چیئرمین شپ کا تھا، جس میں ایک ایسے شخص کو چیئرمین بنانے کا اعلان کیا گیا جو ان کا وکیل تھا۔ دوسرا فیصلہ یہ تھا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود ہوں گے اور سینیٹ میں علامہ ناصر۔ آج اس پر اعتراضات ہو رہے ہیں۔
انہوں نے اسپیکر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ذاتی دشمنی نہیں، لیکن اسپیکر کا منصب ان سے سنبھالا نہیں جا رہا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف اور عمران خان نے ان کی اور راجہ ناصر کی بطور قائد حزب اختلاف نامزدگی کی بات پارٹی کو بھیج دی تھی۔ پارٹی اور اسپیکر کے درمیان محض سو فٹ کا فاصلہ تھا، مگر یہ فیصلہ پانچ ماہ تک رکا رہا۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ان کی اپنی معلومات یہ ہیں کہ اسپیکر خود بھی اس معاملے میں ملوث تھے کہ کسی طریقے سے ایک شخص کو اس عہدے پر نہ رہنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دوستی اپنی جگہ، لیکن اصولی بات یہ ہے۔
جمہوری جدوجہد اور غیر جمہوری قوتیں
انہوں نے کہا کہ میاں محمد نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کی لائن لے کر پارلیمنٹ کو طاقتور بنانے کی طرف قدم بڑھایا۔ جب وہ اس طرف بڑھے تو ہم نے انہیں غیر مشروط سپورٹ دی۔ بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کی لڑائی پاکستان بننے سے شروع ہوئی ہے۔ غیر جمہوری قوتیں اپنی انا اور اس ارادے کی خاطر کہ یہاں جمہوریت اور آئین نہ ہو، پاکستان توڑنے سے بھی دریغ نہیں کرتیں۔ ہم پر الزام لگایا جا رہا ہے، حالانکہ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان ایک رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔
انہوں نے تحریکِ انصاف میں دو قسم کے لوگوں کی نشاندہی کی۔ ایک کارکن ہے جو عمران خان سے محبت کرتا ہے اور ان کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہے۔ دوسری ان کی مصلحت پسند قیادت ہے، جو اس خوف سے عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے کہ کل وہ کہیں محمود ایم این اے نہیں ہوگا۔ ان کے بقول ان دونوں قوتوں نے تحریکِ انصاف میں مسائل پیدا کیے ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے غزوۂ تبوک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اعلانِ جنگ ہو جائے تو رہبری کی صف میں ہونے والوں کو سوچنا نہیں پڑتا، بلکہ انہیں میدان میں اترنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کعب بن مالک اور دو دیگر صحابہ کا ذکر کیا جو تبوک کے موقع پر پیچھے رہ گئے تھے۔
مذاکرات اور ملاقات کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے مولانا فضل الرحمان کو اس کارِ خیر میں لگایا تھا اور ایک معاہدہ طے پایا، لیکن بعد میں اسے ماننے سے انکار کیا گیا۔ ان کے مطابق کنٹینر ہٹا دیے گئے، مگر ایک پارٹی کا لیڈر جیل میں ہے، اس سے ملاقات ہونی چاہیے۔ انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے یہی درخواست کی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کو خط لکھے گئے اور ان کا جواب موصول ہوا، جو ان کے پاس محفوظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی میٹنگ چونکہ آئینی معاملہ ہے، اس لیے کم از کم پہلی میٹنگ کانسٹیٹیوشن روم میں ہو۔ انہوں نے شہباز شریف کو اپوزیشن چیمبر آنے کی دعوت دی اور کہا کہ وہ ان کے گھر بھی جائیں گے، مگر مذاکرات کانسٹیٹیوشن ہاؤس میں ہوں گے۔
رانا ثناء اللہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ ایک شریف انسان ہیں اور ان کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہیں گے۔ ان کے مطابق رانا ثناء اللہ اپنی وفاداری نبھانے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا ہے تو وہ غیر مشروط طور پر تیار ہیں۔ آل پارٹیز کانفرنس اسی مہینے ہوگی۔ ان کے بقول عمران خان کی رہائی کا فیصلہ جلد بھی ہو سکتا ہے، اور جس دن سیاسی لوگوں کی عمران خان سے ملاقات ہوئی، وہ مثبت مذاکرات کی ابتدا ہوگی۔
انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے گورنر راج نافذ کیا اور پانی کے وسائل و معدنیات پر قبضہ کرنے اور صوبوں کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اندر سے کمزور ہے اور اس کی ساری بربادیاں اندر کی طرف سے ہیں۔
28ویں آئینی ترمیم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ ترمیم موجودہ آئین کے پیوند ختم کرے تو پاکستان کے کروڑوں لوگ جشن منائیں گے۔ لیکن حکومت جو ترمیم لانا چاہتی ہے، اس کے بارے میں پی ٹی آئی کے ذمہ دار لوگ کہتے ہیں کہ یہ عمران خان کی آزادی نہیں بلکہ پاکستان کی بربادی اور خانہ جنگی کا راستہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حقوق نہ دیے گئے تو سندھ، بلوچستان اور پشتونخوا میں لوگ نکلیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں جلوسوں میں گولیوں سے 140 سے اوپر جانیں گئی ہیں۔
مراعات کے الزامات کو سراسر جھوٹ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف بننے کے بعد انہوں نے کوئی مراعات نہیں لیں۔ نہ سرکاری گھر لیا، نہ پروٹوکول مانگا، ان کے پاس صرف ایک چھوٹی گاڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نواز شریف نے ان سے کہا تھا کہ آپ نے میرے ساتھ حکومت میں شامل ہونا ہے، جس پر انہوں نے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی بقا کے لیے ہم کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔











