عراقچی کا امریکا کو انتباہ: جنگ ہو یا نہ ہو، ایران کی پالیسیاں نہیں بدلیں گی

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ دوبارہ چھڑنے کی صورت میں بھی ایران کے مؤقف تبدیل نہیں ہوں گے۔ ان کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ واشنگٹن "ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری" کر سکتا ہے۔
عراقچی نے کہا کہ اگر امریکا کے پاس ذرا بھی عقل ہے تو وہ ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کرے گا، کیونکہ وہ دو بار حملہ کر کے اس کے نتائج دیکھ چکا ہے۔ ان کے بقول موجودہ جنگ نے سب کچھ بدل دیا ہے اور نئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستے پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔
عراقچی کے مطابق خطے میں امن کا واحد راستہ بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی ممالک کا پرامن بقائے باہمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران خطے کے تمام ممالک سے تعاون کے لیے تیار ہے اور علاقائی ممالک کے تیار کردہ سلامتی انتظامات کا خیرمقدم کرے گا، بشرطیکہ وہ بیرونی طاقتوں کے مسلط کردہ نہ ہوں۔
نیوز کورڈ کے مطابق ایران نے ہفتے کو خبردار کیا کہ امریکی بحری جہازوں کو "کسی بھی صورت" خلیج فارس میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے بتایا کہ پیر کو تہران میں ہونے والے مذاکرات میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستانی آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ترک انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن شریک ہوں گے۔ ایرانی اور سعودی حکام کے مطابق بات چیت کا محور علاقائی سلامتی ہوگا۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ حملے کی صورت میں ایران پیچھے نہیں ہٹے گا اور کسی بھی نئی امریکی فوجی کارروائی کا "ناقابل تصور" جواب دیا جائے گا۔ ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے بندر عباس کے اوپر ایک امریکی LUCAS ڈرون مار گرایا۔
دوسری جانب امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جے کلیٹن نے کہا کہ ایران نے بیرون ملک امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کوششیں نمایاں طور پر بڑھا دی ہیں اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر ممالک میں ان کے قتل کی سازشیں "جدید مراحل" تک پہنچ چکی ہیں۔ ایران انٹرنیشنل کے مطابق ایرانی شہری سوشل میڈیا پر نئی جنگ کے امکان پر منقسم ہیں اور کئی لوگ غیر یقینی صورتحال سے تھک چکے ہیں۔











