رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° جزوی بادل 22° / 9°فجر 05:21ظہر 12:16عصر 16:13مغرب 17:50عشا 19:11
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران کا امریکا کو دوبارہ فوجی کارروائی سے خبردار، عباس عراقچی کا بیانایران پر حملہ کل ہو سکتا ہے، ایران کے معاملے کو اچھے طریقے سے نمٹایا: ٹرمپامریکا کا سعودی عرب سے سفارتی عملہ واپس بلانے کا فیصلہ، عراق سفر سے گریز کی ہدایت میں توسیعایران: امریکا کے ساتھ جنگ بندی میں تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونا ضروری، عراقچیعراق میں ایرانی کرد گروپ کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ، امریکا کا شہریوں کو سفر سے گریز کا انتباہاو آئی سی سیکرٹری جنرل کی مکہ، مدینہ اور سعودی شہروں پر حوثی حملوں کی مذمتوزیراعظم شہباز شریف کا دو سال میں 5 لاکھ طلبہ کو کروم بکس فراہم کرنے کا اعلانقومی اسمبلی کا رواں اجلاس 30 اکتوبر تک بڑھا دیا گیا، اہم بلز منظور ہوں گےقلعہ سیف اللہ میں کارروائی، اہم دہشت گرد کمانڈر ہلاک: ضیا اللہ لانگوگورنر کی نوشہرہ میں پرویز خٹک سے ملاقات، وفاق کے ساتھ مسائل کے حل پر باتاسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش ہونی چاہیے: ایرانی صدر پزشکیانشاہد رند: گوادر میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو سراہا

وفاقی آئینی عدالت: ہائیکورٹ انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتی

وفاقی آئینی عدالت: ہائیکورٹ انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتی
فائل فوٹو: سپریم کورٹ آف پاکستان کی عمارت — تصویر: بشکریہ ویکی پیڈیا

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ ہائیکورٹ انتظامی اقدامات کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہے، تاہم عام حالات میں انتظامیہ کی جگہ فیصلے نہیں کر سکتی۔

عدالت نے پولیس افسر منیر سامو کی درخواست اپیل میں تبدیل کر کے منظور کر لی اور سندھ ہائیکورٹ لاڑکانہ سرکٹ کا 30 جون 2026 کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

ہائیکورٹ کے حکم پر اعتراض

جسٹس روزی خان کے تحریر کردہ 10 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ نے منیر سامو کو سپیشل برانچ سے ہٹانے، ایک سال کراچی میں تعینات رکھنے، فیلڈ ڈیوٹی نہ دینے اور تادیبی کارروائی کا حکم دے کر عدالتی نظرثانی کی حدود سے تجاوز کیا۔

فیصلے کے مطابق انکوائری میں منیر سامو کا مبینہ چھاپے میں کردار ثابت نہیں ہوا اور ان کا کردار انٹیلی جنس رپورٹس جاری کرنے تک محدود پایا گیا۔ انکوائری افسر نے ان کے خلاف مزید کارروائی کی سفارش بھی نہیں کی تھی، تاہم ہائیکورٹ نے دوسری انکوائری کے اہم نتائج کو مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا۔

انتظامی اختیارات کی حدود

وفاقی آئینی عدالت کے مطابق سرکاری ملازمین کی تعیناتی، تبادلے اور تادیبی کارروائی مجاز انتظامی حکام کا اختیار ہے۔ آرٹیکل 199 کے تحت عدالتی مداخلت اسی وقت ہو سکتی ہے جب اختیارات سے تجاوز، قانونی ذمہ داری کی عدم ادائیگی یا کسی قانونی و آئینی حق کی خلاف ورزی ثابت ہو۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری ملازمین کے خلاف انتظامی اور تادیبی اقدامات قانونی، منصفانہ اور متناسب ہونے چاہئیں، جب کہ منصفانہ انکوائری اور حقِ سماعت کو آئین کے آرٹیکلز 4 اور 10 اے کا تحفظ حاصل ہے۔

موضوعات: