رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° صاف 22° / 9°فجر 05:21ظہر 12:16عصر 16:13مغرب 17:50عشا 19:11
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران کا امریکا کو دوبارہ فوجی کارروائی سے خبردار، عباس عراقچی کا بیانایران پر حملہ کل ہو سکتا ہے، ایران کے معاملے کو اچھے طریقے سے نمٹایا: ٹرمپامریکا کا سعودی عرب سے سفارتی عملہ واپس بلانے کا فیصلہ، عراق سفر سے گریز کی ہدایت میں توسیعایران: امریکا کے ساتھ جنگ بندی میں تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونا ضروری، عراقچیعراق میں ایرانی کرد گروپ کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ، امریکا کا شہریوں کو سفر سے گریز کا انتباہاو آئی سی سیکرٹری جنرل کی مکہ، مدینہ اور سعودی شہروں پر حوثی حملوں کی مذمتوزیراعظم شہباز شریف کا دو سال میں 5 لاکھ طلبہ کو کروم بکس فراہم کرنے کا اعلانقومی اسمبلی کا رواں اجلاس 30 اکتوبر تک بڑھا دیا گیا، اہم بلز منظور ہوں گےقلعہ سیف اللہ میں کارروائی، اہم دہشت گرد کمانڈر ہلاک: ضیا اللہ لانگوگورنر کی نوشہرہ میں پرویز خٹک سے ملاقات، وفاق کے ساتھ مسائل کے حل پر باتاسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش ہونی چاہیے: ایرانی صدر پزشکیانشاہد رند: گوادر میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو سراہا

وزیراعظم کی زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ہدایت

وزیراعظم کی زرعی برآمدات بڑھانے کیلئے نئی منڈیاں تلاش کرنے کی ہدایت

وزیراعظم کی زیر صدارت زرعی شعبے اور زرعی برآمدات کے فروغ سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں ہوا، جس میں ملک میں فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، لائیو اسٹاک کی ترقی اور زرعی برآمدات میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے زرعی پیداوار اور برآمدات میں اضافے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی زرعی برآمدات 5.18 ارب ڈالر رہیں، جن میں چاول، فشریز، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی نمایاں مصنوعات شامل ہیں۔

وزیراعظم نے زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے بیرون ملک پاکستانی مشنز میں تعینات کمرشل افسران کو مؤثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔

اجلاس میں زرعی مصنوعات کے لیے ویلیو چینز تشکیل دینے، زرعی برآمد کنندگان کو فنانسنگ کی سہولیات فراہم کرنے اور بہتر زرعی طریقہ کار کے فروغ کے لیے پاکستان گڈ ایگریکلچر پریکٹسز نظام تشکیل دینے کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ چین، ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کی زرعی برآمدات کے لیے اہم منڈیاں ہیں، جبکہ نیشنل ایگریکلچر اینڈ فوڈ سیکیورٹی کونسل کو بھی فعال کیا جائے گا، جس میں وزرائے اعلیٰ اپنے صوبوں کی نمائندگی کریں گے۔

اجلاس میں ملک بھر کے کسانوں اور زرعی زمین کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے ڈیجیٹل فارمرز ڈائری اور ایگری اسٹیک تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ اس نظام کے تحت زمین اور پانی کی جانچ کے ریکارڈ بھی ڈیجیٹائز کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کسانوں کو فصلوں کی نگرانی کے لیے دستیاب موبائل ایپ سے آگاہ کرنے کے لیے مؤثر میڈیا مہم چلانے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، مصدق ملک، جام کمال خان، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔