رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° صاف 22° / 9°فجر 05:21ظہر 12:16عصر 16:13مغرب 17:50عشا 19:11
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران کا امریکا کو دوبارہ فوجی کارروائی سے خبردار، عباس عراقچی کا بیانایران پر حملہ کل ہو سکتا ہے، ایران کے معاملے کو اچھے طریقے سے نمٹایا: ٹرمپامریکا کا سعودی عرب سے سفارتی عملہ واپس بلانے کا فیصلہ، عراق سفر سے گریز کی ہدایت میں توسیعایران: امریکا کے ساتھ جنگ بندی میں تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونا ضروری، عراقچیعراق میں ایرانی کرد گروپ کے ٹھکانے پر ڈرون حملہ، امریکا کا شہریوں کو سفر سے گریز کا انتباہاو آئی سی سیکرٹری جنرل کی مکہ، مدینہ اور سعودی شہروں پر حوثی حملوں کی مذمتوزیراعظم شہباز شریف کا دو سال میں 5 لاکھ طلبہ کو کروم بکس فراہم کرنے کا اعلانقومی اسمبلی کا رواں اجلاس 30 اکتوبر تک بڑھا دیا گیا، اہم بلز منظور ہوں گےقلعہ سیف اللہ میں کارروائی، اہم دہشت گرد کمانڈر ہلاک: ضیا اللہ لانگوگورنر کی نوشہرہ میں پرویز خٹک سے ملاقات، وفاق کے ساتھ مسائل کے حل پر باتاسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کی نئی کوشش ہونی چاہیے: ایرانی صدر پزشکیانشاہد رند: گوادر میں دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو سراہا

اسلام آباد کا نیا انتظامی نقشہ وزیراعظم کو پیش،27 رکنی اسمبلی اورچیف ایگزیکٹو بارے

اسلام آباد کا نیا انتظامی نقشہ وزیراعظم کو پیش،27 رکنی اسمبلی اورچیف ایگزیکٹو بارے

حکومتی ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی نے وفاقی دارالحکومت کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے سے متعلق مجوزہ ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کردیا جس میں اسلام آباد کو صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری دینے، منتخب اسمبلی اور اپنے چیف ایگزیکٹو کے قیام کی سفارش کی گئی ہے۔

مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق 27 رکنی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری اسمبلی قائم کرنے کی تجویز ہے، جس میں 21 ارکان براہ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہوں گے، جبکہ خواتین کے لیے 5 اور اقلیتوں کے لیے ایک مخصوص نشست رکھی جائے گی۔

اسمبلی کے انتخابات الیکشن کمیشن آف پاکستان کے تحت کرانے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ارکان پر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا اطلاق ہوگا۔

ڈرافٹ میں اسلام آباد کے لیے منتخب چیف ایگزیکٹو مقرر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو میئر یا وزیراعلیٰ کہلائے گا اور منتخب اسمبلی کے سامنے جواب دہ ہوگا۔

دارالحکومت کے انتظامی امور چلانے کے لیے چیف سیکرٹری اور چار سیکرٹریز تعینات کرنے جبکہ حکومت کے تحت 27 انتظامی محکمے قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت، تعلیم، ماحولیات اور شہری سہولیات سمیت متعدد شعبے منتخب اسلام آباد حکومت کے دائرہ اختیار میں دینے کی تجویز ہے، جبکہ قانون و امن اور ماسٹر پلاننگ کے معاملات وفاق کے پاس رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

سی ڈی اے کے تمام اختیارات اور فرائض بھی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

مجوزہ نظام کے تحت لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 کے تحت کام کرنے والے دیگر اداروں کے فرائض بھی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو منتقل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں قائم اداروں کو پورے آئی سی ٹی کے لیے کام کرنے کا پابند بنانے کی تجویز ہے جب کہ پورے پاکستان کے لیے قائم وفاقی ادارے بدستور اسلام آباد میں کام کرتے رہیں گے۔

خصوصی کمیٹی نے اسلام آباد کے نئے انتظامی نظام کے لیے جامع اور متحدہ قانون سازی کی سفارش کی ہے، جس میں سی ڈی اے آرڈیننس 1960 میں ضروری آئینی ترامیم بھی شامل ہوں گی، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری حکومت کو اپنے امور چلانے کے لیے قواعدِ کار خود مرتب کرنے کا اختیار دینے کی تجویز بھی ڈرافٹ کا حصہ ہے۔

خیال رہے کمیٹی میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر مصدق ملک سمیت اعلیٰ انتظامی و مالیاتی حکام شامل رہے۔

مزید برآں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری نیشنل ہیلتھ سروسز، کمشنر اسلام آباد اور چیئرمین سی ڈی اے نے بھی نئے گورننس ماڈل کی تیاری میں حصہ لیا۔