رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:27ظہر 12:16عصر 16:06مغرب 17:42عشا 19:04
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
حارث رئوف بگ بیش لیگ میں ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کی نمائندگی کے لیے پرجوششمالی کوریا کا بائنانس سے 6.3 ارب ڈالر کی چوری میں ملوث ہونے کے ایف بی آئی الزام کو مستردنیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئےیورپ کے سپر مارکیٹس میں فریزرز ہیک، سویڈن سے بیلجیم تک خوراک ضائع کرنا پڑیہاکی کا مستقبل روشن، سہولتوں کی کمی نہیں؛ جیت کے لیے ٹارگٹ سیٹ کرنا ہوگا: محی الدین وانیبیرسٹر گوہر: سیاسی تنائو مزید نہ بڑھایا جائے، مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائےکوئٹہ کی عابدہ بتول عالمی ایٹم ویٹ ٹائٹل جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون باکسر بن گئیںایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات جاری، نئے علاقائی سکیورٹی انتظامات پر کوششبلاول بھٹو کی زیرِ صدارت پیپلز پارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس، وزیراعظم سے ملاقات پر غورسر تال میوزک اکیڈمی کے باصلاحیت بچوں کا چرچا، علی ڈار کا اکیڈمی کا دورہگوہر: بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی سے باخبر تھےٹرمپ کا انتباہ: ڈیموکریٹس کانگریس میں اکثریت لیں تو ’مسٹر ویٹو‘ بن جاؤں گا

نیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئے

نیپال پریمیئر لیگ تنازع: 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئے
فائل فوٹو: پاکستانی کرکٹرز کی وطن واپسی — تصویر: بشکریہ 24newshd.tv

کراچی: نیپال پریمیئر لیگ کا تنازع شدت اختیار کر گیا، 8 میں سے 7 پاکستانی کرکٹرز وطن واپس آ گئے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان مصباح الحق کی ٹیم سودرپشچم رائلز نے خراب آؤٹ فیلڈ پر اعتراض اٹھایا۔ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کی حفاظت کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

انہوں نے گیلی آؤٹ فیلڈ اور لائٹ ٹاور کی خرابی پر تحفظات کا اظہار کیا اور میچ کی اننگز پانچ اوور تک محدود کرنے کے فیصلے پر احتجاج کیا۔ طویل مذاکرات کے بعد میچ کھیلا گیا، جس میں برات نگر کنگز نے سودرپشچم رائلز کو 35 رنز سے شکست دے دی۔

دوسری جانب مصباح الحق نے کہا کہ ان کی ٹیم کے کپتان کو میچ کے بعد تقریب میں مدعو نہیں کیا گیا۔

فیس کا تنازع

اس سے قبل پاکستان اور نیپال کرکٹ بورڈ کے درمیان نیپال پریمیئر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے لیے 25 ہزار ڈالر فی کس فیس طلب کیے جانے پر بھی تنازع پیدا ہوا تھا۔

نیپالی کرکٹ بورڈ کے صدر نے کہا کہ پی سی بی کا عین موقع پر فیس کا مطالبہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ دوسری جانب پی سی بی ذرائع کے مطابق یہ فیس کھلاڑیوں سے نہیں بلکہ ان کی فرنچائزز سے طلب کی گئی۔

کھلاڑیوں کی واپسی

پاکستان کے 8 کرکٹرز صاحبزادہ فرحان، حسین طلعت، حیدر علی، حنین شاہ، افتخار احمد، حسن علی اور اسامہ میر لیگ میں شامل تھے۔ تاہم حسین طلعت کے سوا تمام کرکٹرز نے وطن واپسی کو ترجیح دی۔

لیگ 21 نومبر تک جاری رہے گی۔

اشتہار