پاکستان کا خلیل زاد کے الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے کر مسترد کرنے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان نے سابق امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد کے اس الزام کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے کہ وہ افغانوں کو طالبان حکومت کے خلاف لڑنے کے لیے مسلح کر رہا ہے۔ حکومت نے اسے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔
خلیل زاد نے کہا تھا کہ ایسی اطلاعات ہیں کہ پاکستان افغانستان میں طالبان کے خلاف افغانوں کو مسلح کر رہا ہے، جبکہ پاکستانی فوج پاکستان مخالف شدت پسندوں سے لڑنے کے لیے افغان باشندوں کو بھرتی کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے تعلقات مزید بگڑنے کا امکان ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری فیکٹ چیک میں کہا کہ خلیل زاد کے دعوے پرانے قیاس آرائی پر مبنی بیانیوں کو دہرانے کے مترادف ہیں اور ان سے ذاتی ایجنڈے کی عکاسی ہوتی ہے۔ وزارت کے مطابق اس ایجنڈے کا مقصد افغان طالبان حکومت کو تقویت دینا ہے، جس پر اس نے دہشت گردی کی معاونت کا الزام لگایا۔
وزارت نے کہا کہ افغان طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستان کی جائز انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو دیگر معاملات سے خلط ملط کرنا خاص طور پر گمراہ کن ہے۔
ہفتے کو جاری ایک الگ بیان میں وزارت نے کہا کہ افغان طالبان حکومت کی جانب سے بار بار دیے جانے والے مجموعی انکار سے پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات ختم نہیں ہو سکتے۔











