سعودی فضائی حملوں میں صنعا اور حدیدہ میں ہلاکتوں کا دعویٰ، حوثیوں کا عدن پر حملہ

ریاض: سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کے حوثی کنٹرول والے دارالحکومت صنعا اور اس کے گردونواح میں فضائی حملے کیے، جن میں حوثی میڈیا کے مطابق متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ حوثیوں کے ادارے المسیرہ نے صنعا میں حملوں کا سلسلہ رپورٹ کیا، جن میں ایک رہائشی مکان نشانہ بنا اور کم از کم 4 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ ابتدائی اطلاع میں یہ تعداد 3 بتائی گئی تھی۔
المسیرہ کا کہنا ہے کہ صنعا گورنریٹ میں سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین کی رہائشی عمارت پر حملے میں 6 خواتین اور ایک بچہ جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہوئے۔ ایک اور رپورٹ میں اسی فیکٹری پر حملے میں 8 اموات کا ذکر ہے، جبکہ بعض اداروں نے صنعا گورنریٹ میں مجموعی طور پر 11 ہلاکتیں بتائیں۔ ان اعداد و شمار میں فرق ہے اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ المسیرہ نے بعد میں کہا کہ مغربی بندرگاہی شہر حدیدہ میں ایک گھر پر حملے میں خاندان کا سربراہ، اس کے دو بچے اور دو بیویاں جاں بحق ہوئیں۔ رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے سعودی عرب پر صنعا اور حدیدہ میں مجموعی طور پر 16 افراد کو ہلاک کرنے کا الزام لگایا۔ حوثی میڈیا نے موخا میں بھی تقریباً 20 فضائی حملوں کی اطلاع دی۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے مغربی شہروں طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے۔ سعودی سول ڈیفنس نے مکہ مکرمہ، طائف اور ینبع سمیت چار مغربی علاقوں کے لیے ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری کی، جو بعد میں واپس لے لی گئی۔ شہریوں کو قریبی محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ کچھ رپورٹوں میں ریاض کی جانب میزائل اور مشرقی صوبے میں ڈرون روکنے کا بھی ذکر ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے صنعا اور موخا کے حملوں اور جانی نقصان پر تاحال تفصیلی موقف سامنے نہیں آیا۔
حوثیوں نے ہفتے کو جنوبی شہر عدن پر حملے کا دعویٰ بھی کیا، جو سعودی حمایت یافتہ حکومت کا عارضی مرکز ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق النصر کیمپ اور بحری اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ یمنی وزارتِ داخلہ نے کہا کہ حملے میں کوسٹ گارڈ کی دو عمارتیں متاثر ہوئیں۔
یمن میں 2022 کی جنگ بندی کے بعد لڑائی جولائی میں دوبارہ شروع ہوئی۔ حوثی 2014 سے صنعا پر قابض ہیں جبکہ سعودی اتحاد 2015 سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس ماہ ریاض ایئرپورٹ پر حملے میں 13 افراد جاں بحق ہوئے، اور امریکا نے سعودی عرب سے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کو نکلنے کا حکم دیا ہے۔











