رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 10° صاف 22° / 9°فجر 05:20ظہر 12:16عصر 16:14مغرب 17:51عشا 19:12
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی دھمکیاں طاقت نہیں، بے بسی کی علامت ہیں: ایرانی سپریم لیڈر کے مشیرشمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان چین پہنچ گئےعمران خان کو تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان، بامعنی مذاکرات کے لیے غیر مشروط آمادگی: محمود خان اچکزئیاستنبول: 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، ایران پر فوجی کارروائی کی مخالفت اور ہرمز کھولنے کا مطالبہاسحاق ڈار آر فور اجلاسوں میں شرکت کے لیے استنبول پہنچ گئےبلوچستان کی پہلی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی، ترقیاتی معلومات تک عوام کی رسائی ضروری: سرفراز بگٹیڈیرہ بگٹی: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی مسلسل تیسرے روز کھلی کچہری، مسائل کے فوری حل کی ہدایتمکہ، جدہ اور طائف کے لیے حوثی حملوں کا انتباہ جاری، چند منٹ بعد واپس لے لیا گیانیب کی کارروائی تیز، سہیل آفریدی ریڈار پر، سابق وزرا کا اثاثوں کا ریکارڈ طلبگورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف جے یو آئی کا اصولی مؤقف، اسلم غوری کا جمہوریت دفن کرنے کا الزامخیبرپختونخوا کے اگلے وزیراعلیٰ وفاقی حکومت کے حمایت یافتہ ہوں گے: کامران مرتضیٰٹرمپ کا دعویٰ: 250 فیصد ٹیرف کی دھمکی سے پاک بھارت جنگ رکی، 11 طیارے گرائے گئے

استنبول: 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، ایران پر فوجی کارروائی کی مخالفت اور ہرمز کھولنے کا مطالبہ

استنبول: 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، ایران پر فوجی کارروائی کی مخالفت اور ہرمز کھولنے کا مطالبہ

استنبول میں 8 علاقائی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کا بند کمرہ اجلاس ہوا، جس میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کی گئی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اجلاس میں ترکیہ، مصر، پاکستان، سعودی عرب، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔

ترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے صحافیوں کو بتایا کہ پہلے 4 علاقائی ممالک کا اجلاس ہوا، جس میں ایران پر ممکنہ حملے کے خدشے اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں پر بات کی گئی۔

بعد ازاں 4 یورپی ممالک بھی اجلاس میں شریک ہو گئے، جس میں جاری تنازعات کے وسیع تر اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

ترک وزیرِ خارجہ کے مطابق آبنائے ہرمز، آبنائے باب المندب اور بحیرہ اسود سمیت اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات توانائی کی فراہمی، غذائی تحفظ اور آزاد تجارت کو شدید متاثر کر رہے ہیں، جس سے عالمی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تمام شریک ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ تباہی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے مذاکرات ضروری ہیں، اور کسی ملک نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی کوئی حمایت نہیں کی۔

ترک وزیرِ خارجہ نے یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی اور جامع امن معاہدے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جبکہ بحیرہ اسود میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

موضوعات: