گندم کی بڑھتی قیمتوں پر اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے گندم کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ان کی زیر صدارت ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی، ملکی ذخائر اور قیمتوں پر کنٹرول کے حوالے سے کابینہ کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کی دستیابی، قومی ذخائر، خریداری کے نظام، مقامی کھپت اور قیمتوں کے رجحانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
ذخائر اور چینی کی صورتحال
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا کے ملکی ذخائر تسلی بخش ہیں اور موجودہ ذخائر مقامی مارکیٹ میں فراہمی کا تسلسل برقرار رکھنے میں مدد دے رہے ہیں۔ ملکی ذخائر اور درآمدی گندم اگلی فصل کی آمد تک ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
اجلاس کو چینی کی مارکیٹ صورتحال سے آگاہ کیا گیا کہ مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت 155 روپے فی کلوگرام کی مقررہ پرچون قیمت سے نمایاں طور پر کم ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ کرشنگ سیزن تک چینی کے مطلوبہ استعمال سے زائد ذخائر موجود ہیں، جس سے مقامی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
متعلقہ اداروں کو ہدایات
نائب وزیراعظم نے گندم کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کے لیے گندم کی فراہمی بڑھانے سمیت تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے ضروری اشیا کی دستیابی اور قیمتوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی پر زور دیا تاکہ صارفین کو غیر ضروری مہنگائی سے محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور ضروری اشیا مناسب قیمتوں پر عوام کو فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ مارکیٹوں میں اشیا کی خرید و فروخت کے نظام پر کڑی نظر رکھنے اور قیمتوں میں غیر ضروری اضافے کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت بھی کی گئی۔
ذخیرہ اندوزی اور مارکیٹ میں قیاس آرائیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کی گئی، اور تمام متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ذریعے اشیائے ضروریہ کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
اجلاس میں ضروری اشیائے خورونوش کے ذخائر، طلب و رسد اور قیمتوں کی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھنے کا عزم دہرایا گیا۔











