پاکستان اور مالدیپ کا دوطرفہ تجارت 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے مخلص دوست ہیں اور ان کا دورہ دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم موڑ ثابت ہوگا۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ دورہ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تجارت کا حجم آئندہ دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فضائی رابطے کے قیام کے لیے بھی اقدامات شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
پاکستان مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مواقع کو ٹھوس عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
تجارتی ہدف اور وفد
وزیراعظم نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کا موجودہ حجم تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہے، تاہم دونوں ممالک نے اسے آئندہ دو سال میں 20 کروڑ ڈالر تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے معمول سے بڑھ کر محنت، مؤثر منصوبہ بندی اور کاروباری برادری کے ساتھ قریبی رابطے کی ضرورت ہوگی۔
شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پاکستان کی جانب سے تاجروں اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک وفد مالدیپ بھیجا جائے گا، جس میں متعلقہ وفاقی وزرا اور سرکاری حکام بھی شامل ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد کاروباری حلقوں کے درمیان براہ راست روابط کو فروغ دینا، تجارت میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔
براہ راست پروازیں
وزیراعظم نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست فضائی پروازوں کی عدم موجودگی کو تجارت اور عوامی روابط کے فروغ میں اہم مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے وزارتِ ہوا بازی کو ہدایت کی کہ براہ راست پروازوں کے اجرا کے لیے فوری طور پر فزیبلٹی تیار کی جائے۔
صدر مالدیپ ڈاکٹر محمد معیزو نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہونا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ مالدیپ کی قومی ایئرلائن جلد مالے اور کراچی کے درمیان فضائی رابطہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
صدر مالدیپ نے پاکستانی تعمیراتی اور انجینئرنگ کمپنیوں کو مالدیپ کے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور مالدیپ اسلامی مالیات اور حلال مصنوعات کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھا سکتے ہیں۔
وزیراعظم اور صدر مالدیپ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک روایتی برادرانہ تعلقات کو عملی اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اب ان اقدامات پر مؤثر عملدرآمد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی رفتار اور مستقبل کی شراکت داری کا تعین کرے گا۔











