سینیٹ میں بلیو پاسپورٹ ترمیمی بل 2026 منظور، بلیو پاسپورٹس 75 ہزار سے کم کر کے 45 ہزار

اسلام آباد: ایوان بالا نے سینیٹ ارکان کے لیے بلیو پاسپورٹ سے متعلق پاسپورٹ ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا۔ پیر کو بل پیش کرتے ہوئے سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ قومی اسمبلی کے ارکان کو ایک سال رکن رہنے پر بھی بلیو پاسپورٹ مل جاتا ہے جبکہ سینیٹ کے ارکان کو پانچ سال رکن رہنے کے باوجود یہ سہولت نہیں دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ بیوروکریٹس کو بلیو پاسپورٹ ملتا ہے مگر سینیٹرز اس سے محروم ہیں۔
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر عبدالقادر کو بل پیش کرنے کے بعد دوبارہ پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ سینیٹ نے پاسپورٹ ترمیمی بل 2026 پیش کرنے کی تحریک متفقہ طور پر منظور کی۔
بلیو پاسپورٹس کی تعداد
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتایا کہ بلیو پاسپورٹس کی تعداد 75 ہزار سے کم کر کے 45 ہزار کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک اور کینیڈا کی جانب سے آفیشل پاسپورٹس پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا، جس کے بعد تقریباً 30 ہزار غیر ضروری اور غیر فعال بلیو پاسپورٹس منسوخ کیے گئے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاسپورٹ کی سکیورٹی اور وقار پاکستان کے لوگوں کے وقار کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق بیوروکریٹس کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت ختم کرنے کا قانون لائیں گے۔ ان کے مطابق جو 30 ہزار پاسپورٹ کم کیے ان میں ایک بھی پارلیمنٹیرین کا نہیں، یہ بل واپس لیا جائے، حکومت نیا بل لائے گی جس میں سابق بیوروکریٹس کے خاندان کی سہولت ختم کی جائے گی۔
کمیٹی چیئرمین اور ارکان کے موقف
چیئرمین داخلہ کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ یہ معاملہ کمیٹی میں کئی بار اٹھایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین آئینی عہدہ ہے اور اس پر ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہونا چاہیے، جبکہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ ہوتا ہے مگر سینیٹ میں صرف چیئرمین کے پاس یہ سہولت موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ اور سابق پارلیمنٹیرینز کے پاسپورٹ کی تجدید دو سال کے لیے کی جا رہی ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کو این او سی لینا پڑتا ہے حالانکہ قانون میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ انہوں نے کمیٹی کی سفارش بتائی کہ ورکنگ سینیٹرز کے بچوں کو بلیو پاسپورٹ کی سہولت دی جائے جبکہ ریٹائرڈ سینیٹرز کے بچوں کو نہیں۔ اجلاس میں بلیو پاسپورٹ کے نظام کو شفاف اور یکساں بنانے پر زور دیا گیا۔
سینیٹر عامر ولی الدین چشتی نے کہا کہ وزارت داخلہ ہماری کیا ویریفکیشن کرے گی، یہ اختیار پارلیمنٹ اور سینیٹ کو دیا جائے۔
سینیٹر عابد شیر علی نے کہا کہ سیکریٹری داخلہ نے کمیٹی میں کہا کہ وہ وزیر کو جوابدہ ہیں، کمیٹی کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلال چوہدری ایوان میں غلط بیانی نہ کریں۔ ڈپٹی چیئرمین نے عابد شیر علی کے وزیر مملکت کے بارے میں کہے گئے الفاظ حذف کرا دیے۔ عابد شیر علی نے کہا کہ ان کے 22 سالہ کیریئر میں ایسا نہیں ہوا جو اب ہو رہا ہے۔
سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ جو پاسپورٹ جاری ہوئے وہ وزارت نے ہی جاری کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ کسی کو عبرت کا نشان تو بنائیں، اور اگر کوئی ملک بلیو پاسپورٹ پر اعتراض کرے تو فوری انکوائری شروع کرائی جائے۔ اجلاس میں پاسپورٹ ترمیمی بل 2026 منظور کر لیا گیا۔











