کوئٹہ: گورنر مندوخیل کی صدارت میں میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کا سینیٹ اجلاس

کوئٹہ: گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ آپ سب گواہ ہیں کہ میں نے یونیورسٹی سینیٹ کے ہر اجلاس میں یکطرفہ فیصلوں کی بجائے اجتماعی دانش اور مشترکہ فیصلوں کو ہمیشہ اولیت دی ہے۔ سینیٹ اجلاس کے طے شدہ فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی مناسبت سے متعلقہ یونیورسٹی کو واضح ٹاسک دیتا ہوں اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے متعلقہ وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر کو خصوصی طور پر جوابدہ ٹھہراتا ہوں۔
آج تمام یونیورسٹیوں کے امور میں شفافیت، ڈسپلن اور جوابدہی کو یقینی بنانے کی اس حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، جن میں صوبے کی تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کی رینکنگ اینڈ اسکورنگ میں دوگنا بہتری آئی ہے۔ میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کی کارکردگی میں کافی بہتری آئی ہے تاہم بہت کچھ کرنا اب بھی باقی ہے۔
پانچواں سینیٹ اجلاس
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کے پانچویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس سردار احمد حلیمی، سینیٹر دوستین ڈومکی، صوبائی سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ہاشم خان غلزئی، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ، پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عالم ترین، ایڈیشنل سیکرٹری عبدالمالک اچکزئی، فنانس ڈیپارٹمنٹ اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندے، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان عبدالناصر دوتانی سمیت تمام سینیٹ ممبران بھی موجود تھے۔
سبی یونیورسٹی کے پانچویں سینیٹ اجلاس کے ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے خصوصی ہدایت دی کہ مذکورہ یونیورسٹی میں ٹیچنگ فیکلٹی کی کمی کو 15 دن کے اندر پورا کیا جائے۔ یونیورسٹی کو مزید مستحکم اور فعال بنانے کے لیے دیگر اداروں سے تعاون اور رہنمائی حاصل کرنا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔
کوالٹی ایجوکیشن اور انتظامی عملہ
گورنر مندوخیل نے واضح کیا کہ جہاں وہ ہر سرکاری یونیورسٹی کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھتے ہیں وہیں انتظامی اور تدریسی عملے کے جائز حقوق اور مراعات کے تحفظ و فراہمی کے لیے بھی بھرپور معاونت کرتے رہتے ہیں۔ گورنر مندوخیل نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ممتاز علی بلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوالٹی ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ماڈرن اسکلز ڈیولپمنٹ پر بھی خصوصی توجہ دیں تاکہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس معاشرے کی معاشی و معاشرتی تعمیر و ترقی میں بامعنی شراکت کے قابل بن سکیں۔
میر چاکر خان رند یونیورسٹی سبی کے 5ویں سینیٹ اجلاس کے ممبران کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











