ڈی جی آئی ایس پی آر: ایران امریکا ثالثی پر محتاط امید، ’طاقتور مخالفین‘ موجود ہیں

راولپنڈی: پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعہ کو کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر پاکستان کی فوج محتاط طور پر پُرامید ہے۔ تہران جانے والے اعلیٰ سطحی وفد کے بعد یہ ان کا پہلا انٹرویو ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو آٹھ ماہ پرانی ایران جنگ کو ختم کرانے کی پاکستانی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں، اس ماہ دو بار تہران جا چکے ہیں۔ تازہ دورہ پیر کو ہوا، جس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن بھی ان کے ہمراہ تھے۔
دورے کو مثبت اشارہ سمجھنے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ اگر کوئی مثبت پہلو نہ ہوتا تو فیلڈ مارشل دوسری بار کیوں جاتے۔ ان کے مطابق وہ ہمیشہ ’محتاط امید‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتور مخالفین اب بھی موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ تنازع ان کے مفاد میں ہے، تاہم انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے پیر کے مذاکرات کے بعد کہا تھا کہ علاقائی سلامتی کی ذمہ داری خطے کے ممالک کو بیرونی مداخلت کے بغیر اٹھانی چاہیے۔
جنگ کے آغاز کے بعد پاکستان نے اپریل میں جنگ بندی کرائی تھی، تاہم مستقل تصفیے کی کوششیں رکی ہوئی ہیں۔ 26 اکتوبر کو ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے مکالمہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔











