سی ڈی اے کا مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد رہائش گاہ پر تجاوزات ہٹانے کا 15 روزہ نوٹس

اسلام آباد: کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر نوٹس چسپاں کر کے غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات 15 دن کے اندر ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ نوٹس جمعہ کو جاری کیا گیا۔
نوٹس میں سکیورٹی گارڈز کے کیبن اور سی ڈی اے کی زمین پر نصب جنریٹر ہٹانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ گھر کے اندر بنائے گئے اضافی کچن کو بھی بلڈنگ ضوابط کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ عمل نہ ہونے کی صورت میں عمارت سیل کی جا سکتی ہے یا غیر مجاز ڈھانچے گرائے جا سکتے ہیں۔ نوٹس عمارت کے مالک کے طور پر امان اللہ ولد محمد یونس کے نام جاری ہوا۔ اس میں یہ بھی درج ہے کہ سی ڈی اے اس رہائش گاہ سے تجاوزات ہٹانے کی ہدایت اس سے قبل 18 مارچ 2019 کو بھی دے چکا ہے۔
سی ڈی اے نے اسلام آباد کے ایف ایٹ تھری میں ادارہ معارف اسلامیہ، شریعہ ربانیہ اور تفسیر القرآن کی عمارت میں بھی خلاف ورزیاں نشان زد کی ہیں اور 15 دن میں انہیں دور کرنے کا کہا ہے۔ بلال ٹاؤن میں کورنگ نالے کے قریب مدرسہ اختر العلوم کو منظور شدہ نقشے کے بغیر تعمیر پر نقشہ جمع کرانے کے لیے 15 دن دیے گئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود نے اس اقدام کو انتقامی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ان کے والد کے حکومت سے سیاسی اختلافات کی وجہ سے ایسا کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی تجاوزات کی نشاندہی کے بعد شروع ہوئی۔ انہوں نے سیاسی اختلاف کو ذاتی انتقام میں بدلنے پر تشویش ظاہر کی اور کارکنوں کو چوکس رہنے کی اپیل کی۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے اور اسلام آباد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مہم ایک سال سے زیادہ عرصے سے جاری ہے، جس کا آغاز پوش سیکٹروں سے ہوا۔ ان کے مطابق سکیورٹی کیبن، جنریٹر یا گرین ایریا پر غیر قانونی تعمیرات والے تمام مالکان کو نوٹس دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی بلا امتیاز ہو رہی ہے۔











