وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا، جس میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد علی نے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس میں ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل، فنڈز کی فراہمی اور عمل درآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے آغاز میں گلگت بلتستان کے عوام کو خراج تحسین پیش کیا گیا، جو یکم نومبر کو ڈوگرہ راج سے آزادی اور اس کے بعد پاکستان سے الحاق کا تاریخی دن منانے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ یکم نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف کا گلگت بلتستان کا دورہ متوقع ہے۔
اجلاس میں وزیراعظم کی ہدایت پر جولائی 2026ء میں قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس میں گلگت بلتستان میں جاری وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی موجودہ صورتحال، ان پر عمل درآمد میں درپیش مشکلات اور منصوبوں کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کے لیے درکار اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ شرکاء کو جاری پن بجلی، بنیادی ڈھانچے اور شمسی توانائی کے منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وزیراعظم نے وفاقی حکومت کی جانب سے عوام کے لیے شروع کیے گئے 100 میگا واٹ شمسی توانائی منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں نلتر پاور پراجیکٹ کی تکمیل، انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت میں اضافے اور خطے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تنصیب سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے اور ان کی بروقت تکمیل کے لیے ضروری فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے عمل درآمد کا عمل تیز کیا جائے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان کی ترقی، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری وفاقی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً توانائی کے منصوبوں کی پیش رفت کی باقاعدگی سے نگرانی کی جائے تاکہ عوام جلد ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔











