کوئٹہ: یو این ایف پی اے اور چین کے تعاون سے تولیدی صحت کی کٹس محکمہ صحت کے حوالے

کوئٹہ: بلوچستان میں زچہ و بچہ کی صحت کی سہولیات کو مزید موثر بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبودِ آبادی (یو این ایف پی اے) نے حکومتِ چین کے تعاون سے بین الادارہ جاتی تولیدی صحت کی کٹس صوبائی محکمہ صحت کے حوالے کر دیں۔
اس سلسلے میں منعقدہ تقریب میں یو این ایف پی اے کی صوبائی سربراہ مسز سعدیہ عطا نے کٹس محکمہ صحت کے حکام کے حوالے کیں۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر امین مندوخیل اور ماں، نومولود اور بچوں کی صحت کے پروگرام (ایم این سی ایچ) کی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر گل سبین اعظم نے کٹس وصول کیں، جبکہ ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر آصف شاہوانی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
یہ طبی سامان ضلع خضدار، تربت (کیچ) اور لورالائی میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے مراکز کی ضروریات کے تفصیلی اور شواہد پر مبنی جائزے کے بعد فراہم کیا گیا ہے۔
زچگی کے دوران بروقت طبی امداد
ان کٹس کا مقصد زچگی کے دوران طبی سہولیات کی مسلسل فراہمی، ہنگامی زچگی کی نگہداشت اور تولیدی صحت کی خدمات کو موثر بنانا ہے، تاکہ متعلقہ اضلاع میں ماؤں اور نومولود بچوں کو بروقت اور ضروری طبی امداد کی فراہمی میں مدد مل سکے۔
ایم این سی ایچ پروگرام کی صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر گل سبین اعظم نے کہا کہ ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ صحت عامہ کے نظام کا ایک اہم جزو ہے اور اس کے لیے بروقت طبی سہولیات کی دستیابی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تولیدی صحت کی کٹس کی فراہمی سے متعلقہ اضلاع میں زچگی کے دوران ہنگامی طبی ضروریات پوری کرنے اور صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر گل سبین اعظم کے مطابق، دور دراز علاقوں میں رہنے والی خواتین اور نومولود بچوں کو معیاری طبی خدمات تک رسائی فراہم کرنا ایم این سی ایچ پروگرام کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یو این ایف پی اے اور حکومتِ چین کے تعاون سے طبی عملے کی استعداد کار میں اضافے اور ماں و بچے کی صحت کے تحفظ کی کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔
تعاون کو سراہا گیا
صحت حکام نے یو این ایف پی اے اور حکومتِ چین کے اشتراک کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کا تعاون طبی سہولیات میں موجود اہم ضروریات پوری کرنے، مقامی طبی عملے کی استعداد کار بڑھانے اور بلوچستان میں صحت کے نظام کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔
اس موقع پر ماں، نومولود اور بچوں کی صحت کے پروگرام (ایم این سی ایچ) کی خدمات اور کوششوں کو بھی سراہا گیا۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











