افغانستان میں چھوڑا گیا امریکی اسلحہ دہشت گردوں کی صلاحیت بڑھا رہا ہے: رپورٹ

واشنگٹن:
امریکی جریدے رئیل کلیئر ڈیفنس نے افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اسلحے، دہشت گردی اور پاکستان کی سلامتی پر تفصیلی جائزہ رپورٹ شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی انخلا کے 5 سال بعد امریکی ساختہ ہتھیار پاکستان پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کی صلاحیت بڑھا رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں 7 ارب ڈالر مالیت سے زائد کا امریکی فوجی سازوسامان طالبان رجیم کے اقتدار میں آنے کے وقت موجود تھا۔ افغانستان میں 3 لاکھ سے زائد ہتھیار، 40 ہزار سے زائد فوجی گاڑیاں اور 78 طیارے امریکی انخلا کے بعد اسلحے کے ذخیرے کا حصہ رہے۔
اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے فتن الخوارج کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ فتن الخوارج کو فراہم کیے جانے والے جدید ہتھیاروں میں ایم 24 اسنائپر رائفلز، ٹیلی اسکوپ سے لیس ایم 4 رائفلز اور تھرمل سائٹس سے لیس ایم 16 رائفلز شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جدید ہتھیاروں کی دستیابی دہشت گرد تنظیموں کی عملی صلاحیت میں اضافہ کر رہی ہے۔ طالبان کمانڈرز اور بلیک مارکیٹ کے ذریعے اسلحہ دہشت گردوں کو منتقل ہو رہا ہے۔ پاکستان میں دہشت گردوں سے برآمد 63 ہتھیاروں کے سیریل نمبرز سے ان کا امریکی اسلحہ سپلائرز سے تعلق ثابت ہو چکا ہے۔











