امریکا نے اعلیٰ ترین فوجی منصوبہ ساز جنرل بریٹ سلویا کو برطرف کر دیا، دی اٹلانٹک کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے بدھ کو رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے اپنے اعلیٰ ترین فوجی منصوبہ ساز آرمی لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو برطرف کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ خبر ایسے وقت آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
جریدے نے نامعلوم محکمہ دفاع کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سلویا کو اسی ہفتے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے سربراہ کے منصب سے ہٹایا گیا۔ برطرفی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی ان کے جانشین کا اعلان ہوا ہے۔
سلویا اس سے قبل 101ویں ایئربورن ڈویژن کی قیادت کر چکے ہیں، جو امریکی فوج کا فضائی حملہ آور ڈویژن ہے۔ وہ عراق میں ایک یونٹ کے سربراہ بھی رہے۔
ٹرمپ کے ایک سال قبل اقتدار میں واپس آنے کے بعد فوج کے اعلیٰ افسران کی رخصتی کا یہ تازہ واقعہ ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ جرنیلوں اور ایڈمرلز کی تعداد میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے، جسے انہوں نے احتساب کی کوشش قرار دیا۔ ان کا اشارہ تھا کہ یہ کمی ان افسران کے خلاف کی گئی جو فوج کو جنگی صلاحیت پر مرکوز رکھنے کی ان کی کوششوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’ہم ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری کر سکتے ہیں‘۔ یہ فروری میں تہران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کا حوالہ تھا جن سے جنگ شروع ہوئی۔
ستمبر کے اوائل سے نہ امریکا اور نہ ایران نے زمینی اہداف پر کوئی بڑا حملہ کیا ہے، اور دونوں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے تک محدود ہیں۔











