رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 23° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:10مغرب 17:46عشا 19:07
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران پر نئے اسرائیلی حملے عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن ہوں گے: عراقچیکترینہ کیف: وکی کوشل عملی طور پر سمجھدار ہیں، میں نظریاتی طور پر سمجھدار ہوںحنا الطاف کا خواتین کو درپیش پابندیوں پر طنز، سوشل میڈیا پر نئی بحثلاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی توسیع کی منظوری، مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایتبلاول: پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، وزیر داخلہ ایوان کو بریف کریںفیفا انڈر 15 ورلڈ کپ: پاکستان نے بہاماس کو 5-0 سے شکست دے دیامریکی نائب صدر کا ایران سے مذاکرات بحال کرنے کے لیے محسن رضائی کو خطایرانی فلم ساز جعفر پناہی کو پانچ سال قید کی سزا، سفر اور سوشل میڈیا پر پابندیانتخابی اصلاحات: اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی وزیراعظم کی ہدایتفائنل سے قبل مائیک ہیسن: قومی ٹیم ابھی بہترین کرکٹ نہیں کھیلیفائنل سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کی لاہور میں بھرپور ٹریننگطیب اردوان کی ٹرمپ سے فون پر گفتگو: ہرمز اور یمن کے مسائل سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش

امریکا نے اعلیٰ ترین فوجی منصوبہ ساز جنرل بریٹ سلویا کو برطرف کر دیا، دی اٹلانٹک کا دعویٰ

امریکا نے اعلیٰ ترین فوجی منصوبہ ساز جنرل بریٹ سلویا کو برطرف کر دیا، دی اٹلانٹک کا دعویٰ
فائل فوٹو: لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا — تصویر: بشکریہ taskandpurpose.com

واشنگٹن: امریکی جریدے دی اٹلانٹک نے بدھ کو رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے اپنے اعلیٰ ترین فوجی منصوبہ ساز آرمی لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو برطرف کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ خبر ایسے وقت آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جریدے نے نامعلوم محکمہ دفاع کے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سلویا کو اسی ہفتے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میں حکمت عملی، منصوبہ بندی اور پالیسی کے سربراہ کے منصب سے ہٹایا گیا۔ برطرفی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی ان کے جانشین کا اعلان ہوا ہے۔

سلویا اس سے قبل 101ویں ایئربورن ڈویژن کی قیادت کر چکے ہیں، جو امریکی فوج کا فضائی حملہ آور ڈویژن ہے۔ وہ عراق میں ایک یونٹ کے سربراہ بھی رہے۔

ٹرمپ کے ایک سال قبل اقتدار میں واپس آنے کے بعد فوج کے اعلیٰ افسران کی رخصتی کا یہ تازہ واقعہ ہے۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ جرنیلوں اور ایڈمرلز کی تعداد میں 20 فیصد کمی کی گئی ہے، جسے انہوں نے احتساب کی کوشش قرار دیا۔ ان کا اشارہ تھا کہ یہ کمی ان افسران کے خلاف کی گئی جو فوج کو جنگی صلاحیت پر مرکوز رکھنے کی ان کی کوششوں کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کے بارے میں خیال ہے کہ وہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں پر غور کر رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’ہم ایک اور چھوٹا سا ایپک فیوری کر سکتے ہیں‘۔ یہ فروری میں تہران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کا حوالہ تھا جن سے جنگ شروع ہوئی۔

ستمبر کے اوائل سے نہ امریکا اور نہ ایران نے زمینی اہداف پر کوئی بڑا حملہ کیا ہے، اور دونوں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے تک محدود ہیں۔