مجتبیٰ خامنہ ای سے محسن رضائی کی ملاقات، آبنائے ہرمز کے انتظام اور جنگ کے خاتمے کی شرائط پر گفتگو

تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی سے ملاقات کی، جس میں قومی و علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور ہمسایہ ممالک سے تعلقات زیر بحث آئے۔ سپریم لیڈر کے دفتر نے منگل کو اس ملاقات کا اعلان کیا۔ ملاقات کی تاریخ اور مقام نہیں بتائے گئے۔
دفتر کے بیان کے مطابق گفتگو میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے ذریعے قومی اور علاقائی سلامتی کے تحفظ اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو پائیدار اور باہمی مفادات کی بنیاد پر مضبوط بنانے پر بات ہوئی۔ ایکس پر جاری پیغامات میں کہا گیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای نے سیکیورٹی کونسل میں ثقافت، سیاست، معیشت اور سلامتی کے چار شعبوں کے باہمی تعلق پر زور دیا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق انہوں نے قومی مزاحمت کے نتائج میں سے ایک دشمن کی مایوسی کو قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا کہ سپریم لیڈر نے ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق و مفادات کے تحفظ، ملکی حکام کی مقرر کردہ شرائط پر عمل اور جنگ کے ساتھ ساتھ ”نہ جنگ نہ امن“ کی کیفیت ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کے دفاع میں عوامی شرکت برقرار رکھنے کے لیے فعال رابطے پر بھی زور دیا۔
عرب نیوز کے مطابق ملاقات کا اعلان اس کے ایک دن بعد ہوا جب رضائی نے سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کی۔ یہ تینوں ممالک حال ہی میں باہمی دفاع کے مکہ معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں۔ یہ رضائی اور سپریم لیڈر کی پہلی باضابطہ طور پر اعلان کردہ ملاقات ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ منتخب ہوئے، جو 28 فروری کو تہران میں امریکی و اسرائیلی حملوں میں اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے ساتھ مارے گئے تھے۔ عرب نیوز کے مطابق مجتبیٰ کے بھی اسی حملے میں زخمی ہونے کی اطلاع تھی۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد وہ عوام میں نظر نہیں آئے اور صرف تحریری پیغامات کے ذریعے رابطہ کرتے رہے ہیں، جن میں سے بعض ان سے منسوب ہاتھ کی تحریر میں شائع ہوئے۔ حالیہ دنوں میں عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای اور پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی ان سے نادر ملاقاتوں کا دعویٰ کیا ہے۔
ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول کا دعویٰ کرتا ہے اور بلا اجازت گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بناتا ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ جون کے معاہدے کے ٹوٹنے کے بعد سفارتی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ رضائی نے 22 اکتوبر کو سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق کہا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائی کی قیمت چکانی پڑے گی، سفارت کاری کو ترجیح ہے، مگر جنگ جاری رہی تو ایران کے پاس جواب جاری رکھنے کے ذرائع ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا کہ واشنگٹن تہران سے مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم پیش رفت ”بہت جلد“ ہو سکتی ہے۔











