کوئٹہ: ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے WEXNET 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا

کوئٹہ: مشیر وزیراعلیٰ بلوچستان برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی خواتین میں کاروباری صلاحیتوں اور تخلیقی مہارتوں کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انہیں مناسب پلیٹ فارم، مالی معاونت اور قومی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائے۔
ویمن انٹرپرینیورز نیٹ ورک نمائش (WEXNET) محض ایک نمائش نہیں بلکہ بلوچستان کی خواتین کو قومی سطح پر متعارف کرانے اور ان کی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی جانب ایک تاریخی پیش رفت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز (BUITEMS) کوئٹہ میں WEXNET 2026 کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔
دو روزہ نمائش کا انعقاد ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) کوئٹہ نے بلوچستان بورڈ آف انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (BBoIT) اور محکمہ ترقی نسواں کے اشتراک سے کیا ہے۔ اس میں بلوچستان بھر سے 100 سے زائد خواتین کاروباری شخصیات اپنی مصنوعات اور کاروباری صلاحیتوں کے ساتھ شریک ہیں۔
خواتین کاروباری شخصیات کے لیے اقدامات
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین ایک طویل عرصے سے قومی سطح کے ایسے پلیٹ فارم کی منتظر تھیں جہاں وہ اپنی صلاحیتوں، مصنوعات اور کاروباری مواقع کو دنیا کے سامنے پیش کر سکیں۔ آج ہم نے پاکستان کو بلوچستان میں متعارف کرایا ہے اور WEXNET کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ مقامی مصنوعات کو قومی پلیٹ فارم اور عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا ہمارا ہدف ہے۔
انہوں نے کہا کہ WEXNET پاکستان کی واحد قومی نمائش ہے جو خصوصی طور پر خواتین کاروباری شخصیات اور برآمد کنندگان کو سامنے لانے کے لیے منعقد کی جاتی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کے مطابق خواتین کی معاشی خودمختاری، کاروباری سرگرمیوں میں ان کی مؤثر شمولیت اور معاشی ترقی کے عمل میں ان کے کردار کو مستحکم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ خواتین کو محض کاروبار شروع کرنے کی ترغیب دینا کافی نہیں، بلکہ کاروبار کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مصنوعات کی تشہیر، مارکیٹ تک رسائی اور مالی وسائل کی فراہمی جیسے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
مشیر ترقی نسواں نے نمائش میں شریک خواتین کے لیے تین اہم اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ WEXNET کوئٹہ میں شریک نمایاں 20 خواتین کاروباری شخصیات کو لاہور اور اسلام آباد کی نمائشوں سمیت قومی اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے لیے معاونت فراہم کی جائے گی۔
محکمہ ترقی نسواں تمام شریک خواتین کو دراز سمیت دیگر ای کامرس پلیٹ فارمز اور مجوزہ بلوچ ویمن سپر ایپ سے منسلک کرنے کے لیے تربیتی سہولیات فراہم کرے گا۔ اس کے تحت مصنوعات کی پیشہ ورانہ فوٹوگرافی، پیکجنگ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق مہارتیں سکھائی جائیں گی۔
ویمن اکنامک انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے خواتین کاروباری شخصیات کو اپنے کاروبار میں توسیع اور بہتری کے لیے 15 لاکھ روپے تک بلاسود قرضوں کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ ان اقدامات کا مقصد خواتین کے کاروبار کو مقامی سطح سے آگے بڑھا کر قومی اور بین الاقوامی مارکیٹوں سے منسلک کرنا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے وژن کے تحت آئندہ تین سال میں صوبے کے سات ڈویژنوں میں ویمن ٹیک انکیوبیشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، جبکہ 10 ہزار خواتین کو ڈیجیٹل شعبے میں روزگار کے قابل بنانے کے لیے تربیت فراہم کی جائے گی۔ ان مراکز کے ذریعے خواتین کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل کاروبار اور روزگار کے نئے مواقع سے مستفید ہونے کا موقع ملے گا۔
نمائش کا انتظام اور مصنوعات
ڈائریکٹر ٹی ڈی اے کوئٹہ نور علی اچکزئی نے کہا کہ WEXNET کوئٹہ کے انعقاد کا مقصد خواتین میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا، صوبے کی معاشی سرگرمیوں میں ان کی شرکت بڑھانا اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کاروباری شخصیات قومی معیشت کے استحکام اور برآمدات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
دو روزہ نمائش میں 100 اسٹالز قائم کیے گئے ہیں۔ کاروباری روابط کے فروغ کے لیے بی ٹو بی سیشنز، سیمینارز، ای کامرس سہولیات اور کاروباری ترقی سے متعلق سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔
نمائش میں قلات، خضدار، تربت، ژوب، گوادر، لورالائی اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں کی خواتین کی تیار کردہ ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات، دستکاری، قیمتی پتھروں، ای کامرس اور عمومی تجارت سے متعلق مصنوعات پیش کی گئی ہیں۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے نمائش کے تمام اسٹالز کا دورہ کیا، خواتین کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کیں، ان کی مصنوعات اور کاروباری تجربات کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور حوصلہ افزائی کے لیے مختلف مصنوعات کی خریداری بھی کی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کی صلاحیتوں کو مناسب مواقع فراہم کرکے انہیں معاشی طور پر خودمختار بنایا جا سکتا ہے، اور ان کی کاروباری کامیابی صوبے کی مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











