رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 23° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:10مغرب 17:46عشا 19:07
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران پر نئے اسرائیلی حملے عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن ہوں گے: عراقچیکترینہ کیف: وکی کوشل عملی طور پر سمجھدار ہیں، میں نظریاتی طور پر سمجھدار ہوںحنا الطاف کا خواتین کو درپیش پابندیوں پر طنز، سوشل میڈیا پر نئی بحثلاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی توسیع کی منظوری، مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایتبلاول: پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، وزیر داخلہ ایوان کو بریف کریںفیفا انڈر 15 ورلڈ کپ: پاکستان نے بہاماس کو 5-0 سے شکست دے دیامریکی نائب صدر کا ایران سے مذاکرات بحال کرنے کے لیے محسن رضائی کو خطایرانی فلم ساز جعفر پناہی کو پانچ سال قید کی سزا، سفر اور سوشل میڈیا پر پابندیانتخابی اصلاحات: اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی وزیراعظم کی ہدایتفائنل سے قبل مائیک ہیسن: قومی ٹیم ابھی بہترین کرکٹ نہیں کھیلیفائنل سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کی لاہور میں بھرپور ٹریننگطیب اردوان کی ٹرمپ سے فون پر گفتگو: ہرمز اور یمن کے مسائل سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش

پاک ترک رشتہ آزمائشوں میں مزید مضبوط ہوا: وزیراعظم شہباز شریف

پاک ترک رشتہ آزمائشوں میں مزید مضبوط ہوا: وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: پاکستان اور ترکیہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے 103ویں یوم جمہوریہ پر ترکیہ کے سفیر کی رہائش گاہ پر عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقتصادی اور دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں سلامتی کے حوالے سے دونوں ملکوں کے مشترکہ عزم کی ترجمانی کرتا ہے۔

وزیراعظم نے ترک قیادت اور عوام کو یوم جمہوریہ کی مبارک باد دی اور کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ محض سفارتی تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جڑیں مشترکہ تاریخ، باہمی احترام اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی روایت میں پیوست ہیں۔

ان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، معیشت، تعلیم، ثقافت اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری ہے، جسے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔

تاریخی رشتہ اور قدرتی آفات میں یکجہتی

شہباز شریف نے کہا کہ تحریک خلافت کے زمانے میں برصغیر کے مسلمانوں نے ترکیہ کی حمایت کے لیے قربانیاں دیں، جبکہ پاکستان میں آنے والے زلزلوں اور تباہ کن سیلابوں کے دوران ترک عوام نے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ قدرتی آفات کے موقع پر ترکیہ نے پاکستان کی مدد کے لیے فوری اقدامات کیے۔

صدر رجب طیب اردوان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جبکہ ترک خاتون اول امینے اردوان نے متاثرین کی امداد کے لیے اپنا نیکلس عطیہ کیا۔

وزیراعظم نے گزشتہ برس معرکہ حق کے دوران ترکیہ کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب پاکستان کو جارحیت کا سامنا کرنا پڑا تو ترک قیادت اور عوام نے اس کا ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور یکجہتی کی بنیاد پر قائم ہیں۔

اقتصادی تعاون

انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے جولائی میں استنبول کے دورے کے دوران کراچی میں طیب اردوان اکنامک زون قائم کرنے کے اعلان کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق تجارتی اور معاشی تعاون کو فروغ دے کر تعلقات کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اولو نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام نے ہمیشہ ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کا مقصد تاریخی دوستی کو دیرپا اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس سمت میں اہم مثال ہے۔ ترک سفیر نے صدر رجب طیب اردوان کا خصوصی پیغام بھی پڑھ کر سنایا۔

عشائیے کے آغاز میں پاکستان اور ترکیہ کے قومی ترانے پیش کیے گئے، جبکہ وزیراعظم اور دیگر شرکا نے تقریب میں مشترکہ طور پر کیک کاٹا۔ موسیقی کا بھی اہتمام کیا گیا، جسے شرکا نے سراہا۔