رانا ثناء اللہ: بانی پی ٹی آئی کی بہنیں انتشار اور اسلام آباد پر چڑھائی چاہتی تھیں

اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں اس لیے جیل میں ہیں کیونکہ وہ اسلام آباد پر چڑھائی کرنا اور انتشار پھیلانا چاہتی تھیں۔
سینیٹ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے سامنے تمام معاملات رکھے گئے ہیں۔ جیل میں دی جانے والی تمام سہولیات کا ذکر سپریم کورٹ میں ان کے اپنے وکیل نے خود کیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جو رپورٹ سپریم کورٹ اور انہیں دی گئی تھی، اس میں کوئی فرق نہیں تھا۔ ان کے مطابق کل نورین نیازی کی طبیعت خراب ہوئی تو انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ نورین نیازی اور بانی پی ٹی آئی کی بہنیں جیل میں اس لیے ہیں کیونکہ وہ انتشار پھیلانا اور اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتی تھیں۔
کامران مرتضیٰ کے بیان پر ردعمل
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا تھا کہ اگر ریاست ایسا رویہ نہ رکھے تو وہ کچھ نہیں کہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست کو ماں کا درجہ دیا گیا ہے تو ایسے الفاظ استعمال نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق تھوڑے عرصہ پہلے ایسی ہی باتیں شہدا کے حوالے سے بھی کی گئی تھیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اپنی ذاتی انا کو اجتماعی انا اور مفاد میں نہیں لے کر جانا چاہیے۔
فلک ناز چترالی کا الزام
قبل ازیں پی ٹی آئی کی سینیٹر فلک ناز چترالی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی غیر سیاسی بہنیں گرفتار ہیں اور نورین نیازی کی طبیعت خراب ہے، انہیں رات کو ہارٹ اٹیک ہوا۔ ان کے مطابق نورین نیازی کی بیٹی کو والدہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اتنا ظلم شاید مارشل لا کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ انہوں نے مریم نواز سے خواتین پر مظالم بند کرنے کی درخواست کی۔
فلک ناز چترالی نے کہا کہ ایم این اے اقبال آفریدی کے گھر رات چار بجے پولیس نے چھاپہ مارا اور وہاں سے خواتین کو اٹھایا گیا۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آج ایک وزیر نے سینٹ کے تقدس کو پامال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بیانیہ بنا کر لوگوں کو دیا جا رہا ہے، جبکہ مولانا نے وہ بات نہیں کی جو بیانیہ بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی ریاست مخالف کوئی غلط بات کی۔
کامران مرتضیٰ نے بلاول بھٹو زرداری کی اس بات کو اچھا قرار دیا کہ ایوان کو عزت دی جائے۔











