سینیٹ میں محسن نقوی، کامران مرتضیٰ اور عابد شیر علی میں تلخ کلامی

اسلام آباد: سینیٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی تقریر پر جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے احتجاج کیا، جس کے بعد ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا۔
محسن نقوی اور کامران مرتضیٰ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ محسن نقوی نے احتجاج پر کہا کہ آپ کو میری بات سننا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنقید کرتے ہیں تو جواب سننے کی ہمت بھی پیدا کریں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جب تک ریاست سے فائدے ملتے ہیں، تب تک ریاست اچھی لگتی ہے، لیکن جب حصہ نہ ملے تو ریاست پر تھوکنا مناسب نہیں۔ اس پر کامران مرتضیٰ نے جواباً کہا کہ زبان سنبھال کر استعمال کریں۔
دوران اجلاس مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عابد شیر علی بھی غصے میں آ گئے اور کامران مرتضیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے، ماں کو گالیاں دیتے ہیں۔
عابد شیر علی اور کامران مرتضیٰ کے درمیان بھی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے وزیر مملکت طلال چوہدری نے عابد شیر علی کو بٹھا دیا۔
محسن نقوی نے احتجاج کرنے والے ارکان سے کہا کہ اب ہمت کریں اور جواب سنیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ کوئی بھی اپنی مرضی کی بات کرے اور دوسرے کا موقف نہ سنے۔
وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں سے متعلق باتوں اور سیاسی اختلاف میں فرق ہونا چاہیے، جبکہ تنقید کرنے والوں کو جواب سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔











